اگر کسی کے جسم کا یہ والا حصہ صاف ہے تو سمجھ جائے کہ اللہ اس سے راضی ہے۔

انسان کسی چیز کو بیچتا ہے دو وجہ سے یا تو حاجت مند ہوتا ہے تو چیز بیچ دیتا ہے قسط ادا کرنی ہے اور لینے والے تنگ کررہے ہیں تو مکان بیچ دو اور قسط ادا کردو گاڑی بیچ دو قسط ادا کردو ۔لوگ دکان بیچ دیتے ہیں اپنی قسطیں ادا کردیتے ہیں یا پھر ان کو زیادہ فائدہ کی توقع ہوتی ہے مثلا پلاٹ خریدا تھا پچیس لاکھ کا اب قیمت لگ گئی ایک کروڑ روپیہ اچھا بھائی پلاٹ بیچ دیتے ہیں تو یہ زیادہ فائدہ کی توقع ہوتا ہے یا حاجت ہوتی ہے تب بندہ اپنی چیز کو بیچتا ہے اور یہ دونوں چیزیں اللہ کی شان میں ممکن نہیں ہیں نہ اللہ کو کوئی حاجت ہے کہ وہ جنت کو بیچے نہ اللہ کو کسی فائدے کی توقع ہے کہ زیادہ فائدہ مل جائے گا۔

وہ اپنی چیز کو بیچے تو اللہ نے یہ بات ہی نہیں کی کہ میں نے جنت کو بیچا اللہ نے فرمایا نہیں میں نے جنت کے بدلے مومن کی جان اور مال کو خرید لیا ہے تو دیکھو کتنا پیارا انداز اللہ نے اپنایا بات کرنے کا مومن کے جان اور مال کو جنت کے بدلے خرید لیا اب ایک مسئلہ تو حل ہوگیا کہ اللہ نے خرید لیا ہے لیکن دوسرا مسئلہ پھر ذہن میں آتا ہے اگر اللہ نے خریدا ہے تو انسان کا دل اللہ کا گھر ہے تواللہ کو چاہئے تھا کہ اپنا گھر پہلے خریدتے جس بندے کے پاس فالتو پیسے ہوں وہ پہلے گھر خریدتا ہے بعد میں کچھ اور خریدتا ہے ذرا کوئی کمیٹی نکل آئی یا کہیں سے نفع آگیا کہتے ہیں جی سب سے پہلے گھر خریدو گھر اپنا ہونا چاہئے۔

تو اللہ تعالیٰ اگر خریدنا چاہتے تھے تو اللہ نے دل کا تو تذکرہ ہی نہیں کیا علماء نے اس کا بھی جواب لکھا ہے وہ فرماتے ہیں کہ دیکھیں اللہ نے فرمایا میرے بندے تیرا دل تو میرا گھر ہے وہ تو وقف ہے میرے لئے اور جو وقف کی جائیداد ہوتی ہے اس کی بیع و شرع کی اجازت نہیں ہوتی فرمایا کہ دیکھو یہ تو وقف ہے میرے لئے دل اس کی تو میں خرید کی بات ہی نہیں کرتا یہ تو ہے ہی میرا اس کے علاوہ تیرے پاس تیرا مال اور تیری جان باقی بچی تھی میں نے جنت کے بدلے اس کو بھی خرید لیا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ گھر ہے ہمیں چاہئے ہم اللہ کے گھر کو صاف رکھیں ہم مسجد کو کیوں صاف رکھتے ہیں کہ اللہ کا گھر ہے نجاست نہیں پھیلاتے مسجد میں دل بھی اللہ کا گھر ہے اس کو بھی صاف رکھنے کی ضرورت ہےجب ہم گناہ کرتے ہیں یا زبان سے جھوٹ بولتے ہیں یا آنکھ سے غلط دیکھتے ہیں۔

تو دل پر گناہ کے اثرات ہوتے ہیں ہم گویا اس اللہ کے گھر کے اندر نجاست داخل کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ فرمائے اور اللہ ہمیں اپنے دلوں کو صاف کرنے کی توفیق عطافرمائے یہاں پر طالب علم کے ذہن میں ایک سوال پیداہوتا ہے کہ جب دل اللہ کا گھر ہے تو پھر اللہ اس کو صاف رکھے ؟علماء نے جواب دیا کہ جب کوئی مکان کسی کو کرائے پر دیاجاتا ہے تو مکان کو صاف رکھنا مالک کی ذمہ داری نہیں ہوتی کرائے دار کی ذمہ داری ہوتی ہے اللہ نے بھی اس دنیا میں یہ دل ہمارے اختیار میں دیا فرمایا میرے بندو گھر میرا ہے لیکن اس کو صاف رکھنا تمہاری ذمہ داری ہے تم اس کو صاف کرو ۔ اگر ہمارا دل صاف ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ ہمارے ساتھ راضی ہے او ر اگر ہم نے اپنے دل کو گندا رکھا ہوا تو انسان کو سمجھ لینا چاہئے کہ اس نے اللہ کو ناراض کیاہوا ہے اسے چاہئے کہ وہ جلد از جلد اللہ کو راضی کرے ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.