جو بندہ روزانہ یہ عمل کرتا ہے۔

حدیث پاک میں آتا ہے کہ جو انسان باقاعدگی سے مسوک کرتا ہو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ موت کے وقت اوس کو ملک الموت کو بھیجتے ہیں اور ملک الموت اس وقت دو کام کرتا ہے ایک تو شیطان کو مار کر اس سے دور بھگا دیتا ہے اور اس بندے کو یاد دلادیتا ہے کہ تیرا وقت قریب ہے کلمہ پڑھ لے اور ملک الموت ہی آکر کلمہ یاد دلائے تو یہ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے اور ہمارے لئے کتنی بڑی بات ہے ۔کتنی اعلیٰ بات ہے اسی لئے ہمارے مشائخ کو اپنے آخری وقت کا بڑا خوف رہا کرتا تھا دعا مانگتے رہتے تھے کہ اے اللہ موت کے وقت کلمہ عطا کردینا ۔رہ گئی بات وقت کی تو کی تو کوئی قیمت نہیں ہاتھوں سے ہمارا نکلتا چلا جارہا ہے وقت ہاتھوں سے نکل گیا تو بس پھر ہمارے پاس کچھ نہ رہا انسان سمجھتا ہے کہ وقت گزررہا ہے وقت گزررہا ہے ایک وقت آتا ہے کہ پتہ چلتا ہے۔

کہ وقت نے کیا گزرنا تھا میں خود ہی دنیا سے گزرگیا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بندے کی جو قدرو قیمت ہے وہ اس کے بدن کی وجہ سے نہیں ہے اس کے اعمال اور اس کے کمال کی وجہ سے ہے ۔اس کے عدل و کمال کی وجہ سے ہے ۔جس میں جتنی صفات ہوں گی اللہ کے ہاں اتنا محبوب ہوگا ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز سے پہلے مسواک کی فضیلت کے بارے میں ارشاد فرمایا :جس نماز کے وضو میں مسواک کی گئی ہو اُس کی فضیلت اُس نماز پر ستر درجہ زیادہ ہے جس کے وضو میں مسواک نہیں کی گئی۔مسواک کرنا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسندیدہ اور دائمی عمل تھا۔ حضرت شریح بیان کرتے ہیں۔

کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے کیا کام کرتے تھے؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا :مسواک کرتے تھے۔ایک اور حدیث مبارکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اگر میری امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ حضرت واثلہؓ سے مرفوعاً نقل کیا گیا ہے کہ حضورِ اقدسؐ نے ارشاد فرمایا : مجھے (بار بار) مسواک (کرنے) کا حکم دیا گیا، یہاں تک کہ مجھے اس کے فرض ہوجانے کا اندیشہ ہونے لگا۔ حضرت واثلہؓ سے مرفوعاً نقل کیا گیا ہے کہ حضورِ اقدسؐ نے ارشاد فرمایا : مجھے (بار بار) مسواک (کرنے) کا حکم دیا گیا، یہاں تک کہ مجھے اس کے فرض ہوجانے کا اندیشہ ہونے لگا۔

ضرت عامر بن ربیعہؓ سے مرفوعاً نقل کیا گیا ہے کہ : ’’میں نے حضورِاقدسؐ کو روزے کی حالت میں اتنی کثرت سے مسواک کرتے دیکھا ہے جسے شمار نہیں کیا جاسکتا۔موجودہ دور میں عوام میں عموماً اورجدید تعلیم یافتہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں خصوصاً منہ کی صفائی حاصل کرنے کے لیے جو ٹوتھ پیسٹ اور برش وغیرہ کا رواج چلا آرہا ہے اس سے منہ کی طہارت اور پاکی تو حاصل ہوجاتی ہے لیکن یہ مسواک کی سنت کے قائم مقام ہرگز نہیں، لہٰذا اس سے مسواک کی سنت ادا نہیں ہوتی۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.