حضور ﷺ نے فرمایا : 3 چیزوں سے کبھی انکار مت کرنا

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 3چیزوں سے کبھی انکار مت کرنا:نبی کریم ﷺ نے جو تم لوگوں کو جانتا ہے وہ خوشبو کی دعوت دے یعنی خوشبو تم لوگوں کو عنایت کرے ۔تم کبھی بھی اس کا انکار مت کرنا ۔ اسے قبول کرلینا اسے واپس نہ کرنا۔ کیونکہ خوشبو تحفوں میں سے ایک حسین تحفہ ہے ۔ لہذا خوشبو کو تم قبول کرنا ہے ۔ دوسری اہم چیز جس کے بارے میں آپ نے غور کرنا ہے وہ اہم چیز ہے اگر تمہیں کوئی تکیہ عنایت کرے تو تکیے سے کبھی انکار نہیں کرنا ۔تکیہ ہمیشہ آپ نے ہمیشہ قبول کرلینا ہے ۔تیسری چیز ہے کہ اللہ کا نور یعنی دودھ تو دودھ ہے اگر کوئی بھی شخص آپ کو عنایت کرتا ہے

تو دودھ آپ نے قبول کرلینا اور کبھی انکار نہیں کرنا ۔جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کے رہتے ہیں مالک سے وہی لوگ اصل میں فلاح پانے والے ہوتے ہیں۔ یہ تین چیزیں جو کہ خوشبو ، دودھ اور تکیہ کبھی بھی کوئی آپ کو عنایت کرے تو کبھی انکار نہیں کرنا۔ آج کا دور جس میں ف۔تنے اس قدر پھیل چکے ہیں کہ دین پر چلنا مشکل ثابت ہوتا ہے۔ پیارے نبی ﷺ کے پیاری سنتوں کو چھوڑا جارہا ہے ۔ سنتوں کے نعوذ باللہ جنازے نکالے جارہے ہیں۔گستاخیاں کی جارہی ہیں ایک مسلمان ہونے کے اعتبار سے ہمارا فرض ہے ہم ہمارے نبی ﷺ کی سنتوں پر مضبوطی سے عمل پیرا ہوں اور سنتوں کو زندہ کرنے والے بن جائیں۔ایسے وقت میں جب اُمت میں بگاڑ آچکا ہو آپ ﷺ کی سنتوں کو چھوڑا جارہا ہو۔ ایسے دور میں کوئی مسلمان میری ایک سنت پر عمل کرے گا ۔

اللہ تعالیٰ اس شخص کو سو شہیدوں کا ثواب عطاء فرمائے گا ۔ اس قدر فضیلت ہے ہمارے پیارے نبیﷺ کے سنتوں پر عمل کرنے کی۔ اپنی زندگی کو آپ لوگ نبی ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے والے بن جائیں اور ان چیزوں سے باز آجائیں جن چیزوں سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے اوراللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچتے رہیں۔ایک اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ تین چیزیں:تکیہ، تیل اور دودھ۔ (اور ایک روایت میں خوشبو کا ذکر ہے) اِن چیزوں کا اگر کوئی شخص ہدیہ پیش کرے، تو اُسے انکار نہیں کرنا چاہئے؛ کیونکہ عموماً اِن چیزوں کے لینے دینے میں گرانی محسوس نہیں ہوتی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر دعوت میں مجھ کو بکری کا دستہ یا پاؤں کھانے کے لئے بلایا جائے.

تب بھی میں ضرور جاؤں اور اگر مجھ کو کوئی بکری کا دست یا پاؤں تحفہ بھیجے تو اس کو ضرور لے لوں گا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ہدیہ قبول کرلیتے تھے اور اس کا بدلہ کرتے۔حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے میں نے اپنے بیٹے (نعمان) کو ایک غلام (اس کانام معلوم نہیں ہوا) دیا ہے۔ آپؐ نے پوچھا کیا تو نے سب بیٹوں کو ایسا ہی غلام دیا ہے۔ انہوں نے کہا نہیں، آپؐ نے فرمایا تو اس کو واپس لے لو۔حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ منبر پر (کوفہ میں خطبہ سنارہے تھے) کہتے تھے میرے باپ نے مجھ کو کچھ دیا (ایک غلام) ۔عمرہ بنت رواحہ (میری ماں) نے کہا میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک تو آنحضرت ﷺ کو (اس ہبہ کا) گواہ نہ بنادے۔ یہ سن کر میرا باپ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا کہنے لگا عمرہ بنت رواحہ کے پیٹ سے جو میرا بیٹا ہے اس کو میں نے کچھ دیا ہے اس کی ماں کہتی ہے کہ آپؐ کو میں گواہ کردوں یارسول اللہ ۔آپؐ نے فرمایا کیا تو نے اور بیٹوں کو بھی ایسا ہی کچھ دیا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا لوگو اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں انصاف کرو ۔یہ سن کر میرا باپ لوٹ گیا اور اپنی دی ہوئی چیز پھیر لی۔اللہ ہم سب کاحامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.