رزق برکت اور دولت غیب سے آئے گی۔

حضرت علی ؓ نے فرمایا اللہ اس گھر سے محبت کرتا ہے جس گھر میں بیوی موجود ہو اور اللہ اس گھر سے نفرت کرتا ہے جس میں طلاق ہو کیونکہ طلاق سے زیادہ قدرت کے نزدیک ناپسندیدہ چیز کوئی نہین تو کسی نے عرض کیا یاعلی ؓ اگر ازدواجی زندگی میں جھگڑے ہوتے ہوں تو حضرت علی ؓ نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے افضل انسان وہ ہے جو ناپسندیدہ شخصیت کے ساتھ زندگی گزارے جو بیوی اپنے شوہر کی تلخ باتوں کو یا جو شوہر اپنی بیوی کی تلخ باتوں کو اللہ کے لئے برداشت کرتا ہے تو اللہ اس گھر پر اپنا نور برکت اور رحمت برساتا ہے .

اور یوں اس گھر پر غیب سے مدد آتی ہے جس گھر میں میاں بیوی ایک دوسرے کی تلخ باتوں کو درگزر کر کے محبت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں ۔گھروں کو اللہ تعالی نے “سکن” بتلایا ہے، یعنی سکون و اطمینان کی جگہ، لیکن کسی بھی گھر کے “مسکن ” [سکون کی جگہ ] ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اسے معنوی و مادی دونوں طرح آباد رکھا جائے اور اس کی معنوی و مادی زینت پر توجہ دی جائے ، اور اگر اس کی صرف مادی زیبائش پر توجہ دی گئی اور معنوی زینت سے مزین نہ کیا گیا تو وہ گھر کبھی بھی سکون و اطمینان کی جگہ نہیں بن سکتا بلکہ اس کی مثال جسد بے روح کی ہوگی

کہ مردہ لاش کو خواہ کتنے خوبصورت لباس پہنائے جائیں اسے اچھی سی اچھی خوشبو سے معطر کیا جائے لیکن سڑنے گلنے اور کیڑے مکوڑوں کی غذا بننے سے اسے کوئی چیز نہیں روک سکتی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور اس گھر کی مثال جس میں اللہ تعالی کا ذکر نہیں کیا جاتا زندہ و مردہ کی مثال ہے ۔لہذا ضروری ہے کہ جہاں گھر کی ظاہری صفائی کا اہتمام کیا جائے وہیں گھر میں داخلے کے وقت بسم اللہ اور ذکر الہی کے ذریعہ شیطان کے وجود سے بھی اس کو پاک کیا جائے ، جہاں اپنے گھروں میں عطر بیزی کی جائے اور خوشبو لگائی جائے وہیں ذکر الہی اور تلاوت قرآن سے بھی اسے معطر کیا جائے ، اور جہاں گھروں کو مزین کرنے کے لئے دیواروں پر پھول پتے بنائے جائیں

اور پھولوں کے گلدستے رکھے جائیں وہیں نمازوں کے گلدستوں سے بھی اسے سجایا جائے ، یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھروں میں سنت و نفل نماز پڑھنے کی خصوصی تاکید فرماتے تھے ۔جیسا کہ زیر بحث حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ اپنی نمازوں کا کچھ حصہ یعنی فرائض سے ہٹ کر نفلی نمازیں اپنے گھر میں ادا کرو اور انہیں قبرستان نہ بنادو کہ جس طرح قبریں عبادت وعمل سے خالی ہوتی اور جس طرح مرد ے اپنے گھروں [ قبروں ] میں نماز نہیں پڑھتے ویسے تم لوگ بھی نہ بنو بلکہ اپنے گھروں میں نمازیں پڑھا کرو اور اپنی عبادت کا کچھ حصہ گھروں کو ضرور دو ۔ایک اور حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنی [ فرض ] نماز مسجد میں ادا کرلے تو اس کو چاہئے کہ اپنی نماز میں سے کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے بھی کرے ، اللہ تعالی اس کے گھر میں اس کی نماز کی ادائیگی سے خیر و برکت عطا فرمائے گا ۔شکریہ

Sharing is caring!

Comments are closed.