نبی کریم ﷺ صحابہ کرام ؓ سے کس طرح کا مذاق کرتے تھے ؟

نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کرام ؓ کو تلقین فرماتے تھے کہ کسی نیکی کو حقیر مت سمجھو خواہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی اور مسکراہٹ سے پیش آنے کی نیکی ہو حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ پر جب وحی آتی یا جب آپ ﷺ وعظ فرماتے تو آپ ﷺ ایک ایسی قوم کے ڈرانے والے معلوم ہوتے جس پر عذاب آنے والا ہو مگر آپﷺ کی عمومی کیفیت یہ ہوتی تھی کہ سب سے زیادہ مسکراتا ہوا حسین چہرہ آپﷺ کا ہوتا تھا

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں ہمیشہ خوش اور ہنستے مسکراتے وقت گزارتے تھے آپﷺ کی حسِ مزاح بہت لطیف تھی آپﷺ صاف ستھر اور سچا مذاق کرتے تھے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بہت مزاح کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ سچے مزاح کرنے والے پر ناراض نہیں ہوتا حضور ﷺ کی طبیعت میں نرم خوئی اور زندہ دلی بہت زیادہ تھی آپﷺ کی طبیعت میں شدت سختی اور ترش روئی بالکل نہیں تھی جیسا کہ خود اللہ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے کہ اگر آپﷺ تند خو اور سخت مزاج ہوتے

تو یہ لوگ آپﷺ کے قریب نہ آتے۔نبی کریم ﷺ کا ہمہ وقت تبلیغ اسلام میں مصروف رہنے کے باوجود کھیل کود تیر اندازی اور گھڑ دوڑ کے علاوہ ازواج مطہرات اور صحابہ کرام ؓ سے ہنسی مذاق اور تفریحی باتیں کرتے تھے تاہم اس میں اعتدال و تواز ن رکھتے صحابہ ؓ بھی نبی کریم ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے ہنسی مذاق اور ایک دوسرے سے تفریح کرتے اور دل بہلاتے تھے حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ نہایت خوش مزاج خوش اخلاق کشادہ دل اور نرم خو تھے اور ایک دوسرے سے ہنسی مذاق اور دل لگی بھی کرتے تھے صحابہ ؓ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ ہماری مجلس میں آکر بیٹھ جاتے تھے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم ہنسی خوشی بیٹھے ہوں اور آپ ﷺ نے کوئی مایوسی یا غم والی بات کردی

ہو آپﷺ ہمارے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے اور خوش ہوتے تھے حضرت جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ آپﷺ کے سامنے اعلیٰ اشعار اور جاہلیت کی دیگر متفرق باتیں بیان کرتے رسول اللہ ﷺ خاموشی سے ان کی باتیں سنتے اور بسا اوقات تبسم بھی فرماتے حضرت انس بن مالک ؓ جو کہ خادم رسول ﷺ تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بچوں کے ساتھ سب سے مزاح اور بے تکلفی کی باتیں کرتے تھے حضور انور ﷺ حضرت انس ؓ سے خوش طبعی کے طور پر فرماتے اے دوکانوں والے حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریؐ ﷺ ہم میں گھل مل جایاکرتے تھے نبی کریم ﷺ حضرت انس کے ہاں گئے اور ان کے چھوٹے بھائی کو ادا دیکھا اس سے سبب پوچھا تو پتہ چلا کہ اس کی پالتو بلبل مرگئی ہے آپﷺ ان کے گھر جاتے تو اسے محبت سے چھیڑتے اور کنیت سے یاد فرما کر کہتے اے ابو عمیر تمہاری بلبل کا کیا ہوا ہے عمیر عربی زبیر میں بلبل کو کہتے ہیں ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.