کونسی تصاویر لگانا جائز ہے ؟

گھروں میں تصاویر آویزاں کرنا جائز ہے۔ بخاری شریف کی متفقہ حدیث پاک حضرت ابو طلحیٰ ؓ نے اس کے حضرت محمدﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس گھر میں کتا یا تصویر ہو تو اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے یہاں یاد رکھیئے گا کہ ہمارے گھروں میں ہمارے مرحومین کی تصاویر یں آویزاں ہوتی ہیں۔ والد کی والدہ کی داداکی  تو یاد رکھیئے کہ تصویر کسی کی بھی ہو حدیث شریف میں اس کی سخت ممانعت ہے ۔

یہاں پر ایک اور بات آپ کی خدمت میں عرض کرتا چلوں کہ بعض تصاویر وہ قدرتی مناظر کی ہوتی ہیں بعض تصاویر کسی دریا یا کسی پہاڑ وغیر کی ہوتی ہیں یہ تصاویر ناجائز نہیں صرف جاندار کی تصاویر جس میں جاندار کی صورت واضح نظر آئے پھر وہ بچے ہوں بڑے ہوں بوڑھے ہوں جوان ہوں خواہ ہماری ہی تصاویر کیوں نہ یہ جائز نہیں ہے ۔
اس کے علاوہ جو بچے گھر میں کھیلتے ہیں گڑیا اور دیگر قسم کے کھلونے و ہ صرف کھیلنے کی حد تک جائز ہے ۔ لیکن زمین پر گرے پڑے رہتے ہیں اگران کو بھی شوکیز میں آویزاں کیا الماڑیوں کے اوپر سجایا اس سے بھی گناہگار ہوں گے ۔ صرف اور صرف بچوں کے کھیلنے کی حد اس کو رکھا جاسکتا ہے ۔ بچوں کے کھیلنے کے جو کھیلونے ہیں اس میں میوزک نہ ہو ورنہ یہ لانے والا بھی گنہگار ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مسائل دینیہ سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔شکریہ

Sharing is caring!

Comments are closed.