یہ دو پرندے کونسے ہیں؟

حضور اکرم ﷺ کی شان رحیمی و کریمی نہ صرف یہ کہ انسانوں کے ساتھ مخصوص تھی بلکہ آپﷺ کی شان رحمت کی وسعت میں جانوروں کے حقوق کے لئے بھی جدو جہد پائی جاتی ہے اور ان کو اپنے رحم و کرم کے سایہ سے حصہ وافر عطا کیا اسلام نے انسانوں کے لئے تو ایک طرف جانوروں کے حقوق پر بھی بات کی ہے رسول اللہ ﷺ کے بے شمار فرمودات ہیں جو جانوروں کے حقوق کے اوپر ہیں جانوروں کا سب سے اہم حق یہ بتایا گیا کہ ہم انسان ان بے زبان جانوروں کو اللہ کی ہی مخلوق سمجھیں اور ان کے ساتھ رحم کا معاملہ کریں حضرت محمد ﷺ نے زمین پر بسنے والی تمام مخلوقات کے ساتھ رحم کرنے۔

کا بہت ہی تاکیدی اور عمومی حکم دیا ہے جانوروں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے برتاؤ ان کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید اور ان کے ساتھ بہترین سلوک کی دعوت کی روشنی میں اس تحریر میں بتایا جائے گا کہ نبی رحمت ﷺ نے جہاں موذی جانوروں کو مارنے کی عام اجازت عطا فرمائی ہے وہاں چار ایسے جانور ہیں جن کو رسول کریم ﷺ نے مارنے سے منع فرمایا ہے یہ انتہائی مفید معلومات ہے ۔اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اللہ نے چھوٹے سے لے کر بڑے جانور کو ہمارے تابع اور زیر دست کردیا ہے ایک چھوٹا سا بچہ ایک بڑے اونٹ کی مہار تھامے لیئے جاتا ہے یہ بس اللہ عزوجل کی کرم فرمائی اور انسانیت کے ساتھ اس کا فضل ہے۔

کہ ایک بڑے جانور کو ایک چھوٹا بچہ بھی اپنے تابع کیئے دیتا ہے ورنہ یہ ضعیف اور ناتواں انسان کی کیا حیثیت کہ وہ اس قدر بڑے اور قوی ہیکل تندومند اس سے کئی گنا بھاری بھرکم جسم و جثہ کے مالک جانور کو رام کرسکے جانوروں کی اہمیت اور ان کی خوبیوں اور خصوصیات کو بتلانے کے لئے یہ بتلا دینا کافی ہے کہ قرآن کریم نے متعدد جانوروں اور حیوانات کا تذکرہ کیا ہے اتنا ہی نہیں بلکہ کئی ایک سورتیں بھی جانوروں کے نام سے موسوم ہے جیسے سورۃ البقرہ الانعام النحل نمل عنکبوت فیل ۔حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ان چار جانوروں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ۔چیونٹی ،شہد کی مکھی،ہدہد ،ممولا۔ چیونٹی کو مارنے سے منع کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو اس وقت تک نہ مارا جائے۔

جب تک کہ وہ نا کاٹے اگر وہ کاٹے تو پھر اس کو مارنا جائز ہوگا بعض مفسرین یہ بھی کہتے ہیں کہ جس چیونٹی کو مارنے سے منع فرمایا گیا ہے اس سے مراد وہ بڑی چیونٹی جسے چیونٹایا مکوڑا بھی کہتے ہیں اور جس کے پیر لمبے لمبے ہوتے ہیں اس کو ضرر کی صورت میں مارا جاسکتا ہے ایک حدیث مبارکہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:پہلے انبیائے کرام میں سے ایک نبی کو کسی چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کو جلانے کا حکم دے دیا اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل فرمائی کہ ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے تم نے اللہ کی مخلوق کے ایک ایسے گروہ کو ہلاک کر دیا جو اللہ کی تسبیح کرتی تھی دوسری روایت میں ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ تم نے ایک ہی چیونٹی کو جلایا ہوتا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.