جب قبر میں مسلمان کی داڑھی کے ہر بال پر بچھو کے ڈنک مارنے کا عذاب مسلط ہوا۔

ایک طالب علم کسی ملک کے ایک مدرسے میں علم حاصل کررہا تھا ،اس ملک کا جو بادشاہ تھا اس کی ایک بیٹی تھی ، شہزادی کافی خوبصورت ، حسین اور جوان تھی ، طالب علم بھی جوان تھا اب جوانی کا عالم تھا دل بادشاہ کے بیٹی پر فدا ہوا اب طالب علم کی حیثیت یہ نہ تھی کہ بادشاہ سے ان کے بیٹی کا رشتہ مانگ لے ، اب طالب علم کافی پریشان ہوا کرتا تھا ، ساتھیوں سے مشہورہ کیا کہ کیا جائے ساتھیوں نے زبردست تنقید کا نشانہ بناکر کہا تمھارا دماغ خراب ہوا ہے بادشاہ سلامت کو اگر آپ نے بتادیا تو وہ آپ کو زندہ تیل میں جلادیگا ، اب طالب علم بہت زیادہ پریشان ہوا کچھ سمجھ میں نہیں آرھا تھا۔

بلا آخر اس نے فیصلہ کردیا کہ اس پریشانی سے اچھا یہ ہوگا کہ بادشاہ سلامت کے خدمت میں درخواست کرو پھر قسمت اپنا ہے تیل میں جلانا نصیب ہو یا بادشاہ کی بیٹی نصیب ہو ، اب طالب علم نے بادشاہ کے دربار میں حاضری لگائی ، بادشاہ نے آنے کی وجہ پوچھی تو طالب علم نے گبراہٹ کی عالم میں اپنا قصہ سنادیا کہ بادشاہ سلامت مجھے آپ کی بیٹی پر دل آگیا ہے آپ میرے اوپر احسان فرما کر اپنا بیٹی میرے نکاح میں کردو ، بادشاہ سلامت کو کافی غصہ آیا کہ اس عام طالب علم کی حیثیث دیکھوں اور میرے شہزادی کیلئے رشتہ لانا دیکھوں ، اب بادشاہ سلامت نے سوچھنا شروع کردیا کہ کیسا جواب دیا جائے طالب علم کو تاکہ یہ رشتہ مانگنے سے انکار کردے ۔

اب بادشاہ نے ایک شرط رکھ لیا طالب علم کے سامنے کہ اگر آپ نے اس شرط کو پورا کیا تو میں اپنے شہزادی کا نکاح اپ سے کرادونگا ، اب شرط یہ رکھا گیا کہ آپ نے دو بوری زندہ بچھو لانے ہیں پھر بادشاہ سلامت آپ کا نکاح اپنے شہزادی سے کرائے گا ، بادشاہ نے یہ شرط اس وجہ سے رکھا کہ اتنے زیادہ بچھو یہ طالب علم کہاں سے لائے گا یقینن یہ طالب علم اس شرط کو پورا کرنا ناممکن سمجھے گا اور دوبارہ رشتہ نہیں لائے گا ، اب طالب علم یہ شرط سن کر بہت زیادہ پریشان ہوگیا ، خیر طالب علم نے مدرسے کا رخ کرلیا اور اپنی پڑھائی میں مصروف ہوگیا لیکن پڑھائی میں اب وہ مزہ نہیں آرہا تھا جو عشق سے پہلے آرہا تھا ، طالب علم کا ایک استاد تھا جو کافی دنوں سے ان پر نظر رکھ رہا تھا اور استاد یہ دیکھ رہا تھا کہ اس طالب علم کو کیا ہوا ہے ھر وقت پریشان رہتا ہے۔

ایک دن استاد نے اسے اپنے پاس بلا لیا پریشان ہونے کی وجہ پوچھی تو طالب علم نے پورا قصہ سنا دیا اور بادشاہ کے شرط سے آگاہ کیا ، استاد نے طالب علم کو سمجھاتے ہوئے کہاں کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں آپ کو بچھو جمع کرنے کا طریقہ بتادیتا ہوا ، استاد نے کہا شام کو میرے پاس آنا میں آپ کو بچھو جمع کرنے کا طریقہ بتادیتا ہو، اب طالب علم خوشی کے مارے شام ہونے کا انتظار کررہا تھا ، بلا آخر شام ہوگیا اور طالب علم بھی اپنے استاد کے پاس پہنچ گیا ،استاد نے دو بوریاں لانے کو کہاں جب طالب علم نے دو بوریاں لائے تو استاد نے قبرستان میں ایک قبر کا پتہ بتاکر کہاں کہ فلاح قبر پر جاؤ قبر سے سارا میٹی نکالو اور آخیر میں جب انٹیں رہ جائیں تو شروع کا ایک انٹ نکال کر بوری کا منہ سوراغ پر رکھ لو جب بوری بھر جائے تو اس بوری کا منہ کسی رسی سے باند لو اور پھر دوسرا بوری آگے کردو اس کے بھر جانے۔

پر بھی بوری کا منہ باند لو ، اس کے بعد قبر کو اچھی طرح واپس بند کردو اور بوریاں بادشاہ کے پاس لے جاؤ ، طالب علم نے استاد کے کہنے پر اسی طرح کیا جس طرح استاد نے بتایا تھا ، طالب علم نے بچھو سے برے بوریاں بادشاہ کے دربار میں پیش کردیے ، بادشاہ بڑا حیران ہوا اور اپنے وعدے کے مطابق اپنی شہزادی طالب علم کے نکاح میں کردیا اور طالب علم کو پاس بلا کر بچھو جمع کرنے کا راز پوچھا کہ آپ نے اتنے سارے پیچھو کہاں سے جمع کردیا ، طالب علم نے بتایا کہ میرا ایک استاد ہے اس نے قبرستان میں ایک قبر کا پتہ بتایا اور میں نے قبر کھود کر بتائے ہوئے طریقے کے مطابق بچھو سے بوریاں بھرے اور بادشاہ کے خدمت میں حاضر کردیے ، بادشاہ نے استاد کو حاضر کرنے کا حکم دے دیا ،اگلے دن استاد بادشاہ کے خدمت میں حاضر ہوا بادشاہ نے استاد سے فرمایا۔

کہ تمہیں کیسے معلوم تھا کہ فلاح قبر میں اتنے سارے بچھو موجود ہے ، استاد نے بتایا کہ یہ فلاح آدمی کا قبر ہے یہ آدمی زندگی میں داڑھی منڈواتا تھا اور مرتے وقت بھی داڑھی منڈوایا تھا ، ” حضور ص کا ارشاد ہے جو شخص اس حالت میں مرے کہ داڑھی منڈوایا ہو قبر میں اس کے داڑھی کے ھر بال پر ایک ایک بچھو مسلط کیا جاتا ہے ” حضور ص کی بات کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا اس لیے مینے اس قبر سے بچھو جمع کرنے کا کہا اور قبر کا پتہ بتایا . حضور ص کی جو پسند ہے وہ حقیقت میں اللہ کی پسند ہے،اللہ تعالی ہمیں حضور ص کی مبارک سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے . آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.