تقدیر کے فیصلے کروانے والی دعا

یہ قرآن پاک کی دو آیات کا وظیفہ ہے ۔ان میں سے ایک آیت یہ ہے : وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا ۔یہ جو دو آیات ہیں یہ تقدیر کو بدلنے والی دعائیں ہیں کہ اگر بندہ ان آیات کا اپنی زندگی کے اندر معمول بنا لے اپنی زندگی کے اندر ان کو روزانہ کثرت کے ساتھ پڑھ کرے اللہ رب العزت اس کی تقدیر کو بدل دے گا ۔

ہمیں معلوم نہیں ہے کہ ہماری تقدیر میں کیا لکھا ہوا ہے ہماری تقدیر کے اندر اگر کچھ برا لکھا ہوا ہے تواللہ رب العزت ہماری تقدیر میں اچھا ئی لکھ دے گا اگر ہماری تقدیر کے اندر اللہ کی طرف سے کوئی بھی برائی لکھی ہوئی ہے کوئی رزق میں تنگی لکھی ہوئی ہے اولاد کے ناہونے کا لکھا ہوا ہے اور ہمیں ایمان کی دولت نہ ملنے کا لکھا ہوا ہے نبی اکرم ﷺ کا امتی نہ بننے کا لکھا ہوا ہے اگر ہمارے دل کے اندر کوئی بھی ایسی بات ہے کہ ہمارا دل کچھ چاہتا ہے ہوسکتا ہے تقدیر میں اس کا الٹ ہو آپ اپنے دل کو مد نظر رکھتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کی ذات کو اپنے دل میں حاضرو ناظر جانتے ہوئے اللہ رب العزت کی ذات کو اپنے دل کے اندر حاضر و ناظر جانتے ہوئے اے مالک و مولیٰ تو ہی تقدیر کو بدلنے والا ہے نبی اکرم ﷺ کے صدقے ہماری تقدیر کو بدل دے

تو اللہ رب العزت اور ساتھ میں یہ دو آیات آپ ان کا ورد کرنا شروع کردیں اپنی زندگی کے اندر جس طرح ہم لوگ دنیاوی باتیں کرتے ہیں اسی طرح ہم اللہ رب العزت کی قرآن مجید فرقان حمید کی یہ دو آیات کو تلاوت کرنا شروع کردیں یہ اس کتاب کی آیات ہیں جو اللہ نے اپنے پیارے حبیب حضور نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس پر نازل کی ہے اس کے اندر اللہ رب العزت نے ہر چیز کا ذکر موجود رکھا ہے ہر چیز کا فرمایا ہے خشک ہو تر ہو پریشانی ہو ہرچیز کی شفا کا ذکر اللہ رب العزت نے قرآن پاک کے اندر رکھا ہے اگر ہم ان دو آیات کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیں اللہ رب العزت ہماری تقدیر کے اندر اگر کچھ برا ہوگا تو اللہ اسکو اچھے میں تبدیل فرمادے گا آج کل کے دور کے اندر اگر دیکھا جائے تورزق کی تنگی میں بہت لوگ پریشان رہتے ہیں کہ تقدیر کے اندر رزق کی تنگی اگر لکھی ہوئی ہے

تو رزق کی وجہ سے پریشان نہ ہوں کیونکہ اللہ رب العزت نے بارہویں پارے کے شروع میں ہی فرمادیا کہ اللہ رب العزت کے ذمہ کرم پر ہے کہ زمین پر جو بھی جاندار حیوانات جو بھی ہیں اللہ رب العزت کے ذمہ کرم پر ہے کہ ان کو رزق دے ۔رزق بہت ہی لاجواب نعمت ہے رزق ہی ہے جو بندے کو زندگی کے اندر کامیاب بناتا ہے تقدیر کے اندر جو بھی برا لکھا ہو جیسا کہ ہم یوں سمجھ لیں اگر ہمارا دل یہ کہتا ہے کہ میں گناہ نہ کرو ں لیکن اللہ کی طرف سے تقدیر کے اندر یہ لکھا جا چکا ہے کہ بندے نے گناہ کرنا ہی کرنا ہے یہ جو دو آیات ذکر کی گئی ہیں یہ آپ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں رو رو کر ان چیزوں کا استغاثہ کریں کہ اللہ آپ کی جو بھی دعائیں ہیں ان کو قبول فرمائے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.