اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو ایک راز بتایا! اللہ انسان سے کیا چاہتا ہے ؟

ایک مرتبہ کوہِ طور پر اللہ کے نبی حضرت موسیٰؑ کلیم اللہ اللہ سے ہم کلام ہو کر فرمانے لگے اے اللہ تو اپنے بندوں سے کیا چاہتا ہے بس جیسے ہی موسیٰؑ نے یہ پوچھا آواز غیب آئی اے موسیٰؑ میں اپنے بندوں سے صرف ایک چیز چاہتا ہوں تو موسیٰؑ پوچھنے لگے اے میرے خالق کونسی چیز اللہ پاک نے فرمایا میں صرف محبت چاہتا ہو امن چاہتا ہوں میں یہ چاہتا ہوں کہ انسان اس زمین پر محبت کا درس پھیلاتا رہے اس کی زندگی ایسی ہو جس سے ہر کسی کو امن اور سلامتی میسر ہو تا کہ میں اس کا خالق اسے اس سے ہزار گنا بہتر دنیا عطاکرسکوں اے موسیٰ یاد رکھنا جو میر ا بندہ انسانوں میں محبت سلامتی اور اخلاق کا بیج بوتا ہے۔

تو میرے نزدیک وہ زاہد عابد اور متقی سے ہزار گنا بہتر ہے تو موسیٰؑ کہنے لگے اے اللہ تیرے بندے ایسا کیا کریں کہ وہ تیرے قریب ہوجائیں اللہ پاک نے فرمایا جس دل میں میری خلقت کے لئے جتنی محبت ہوگی وہ انسان اتنا ہی میرے قریب ہوتا جائے گا و موسیٰ ؑ نے پوچھا اے اللہ میں ایسا کیا کرو جس سے آپ کی محبت آپ کے مخلوق کے دل میں پیدا ہوجائے اللہ پاک نے فرمایا اے موسیٰ میری دی گئی نعمتوں کا میرے بندوں کے سامنے ذکر کرو جب انسان میری دی گئی نعمتوں پر غوروفکر کرے گا تو اس کے دل میں میری اور میری مخلوق کی محبت دن بدن بڑھتی جائے گی۔

مصر کے صوبے جنوبی سیناء کے شہر سینٹ کیتھرین میں واقع جبلِ شریعہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالی نے اپنے رسول موسی علیہ السلام سے کلام کرتے ہوئے فرمایا تھا إني أنا ربك فاخلع نعليك إنك بالوادي المقدس طوى ۔آثارِ قدیمہ کے ماہر ڈاکٹر عبد الرحيم ريحان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو باور کرایا کہ تمام مطالعوں سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ اسی مقام پر اللہ عزوجل نے تجلی فرمائی اور یہاں واقع علیق کے درخت کے پیچھے آگ روشن ہوئی تھی۔ یہ حضرت موسی علیہ السلام کا سیناء کا پہلا سفر تھا۔ یہاں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا تھا إني أنا ربك فاخلع نعليك إنك بالوادي المقدس طوى ۔ اللہ رب العزت نے حضرت موسی علیہ السلام کے دوسری مرتبہ اس پہاڑ پر آنے کے موقع پر تجلی فرمائی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا۔

اللہ تعالی کا اسی بارے میں ارشاد ہے فلما تجلى ربه للجبل جعله دكا ۔ڈاکٹر عبدالرحیم کا مزید کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے مصر کو بہت بڑا شرف بخشا ہے کہ یہاں مقدس وادی طوی میں جبلِ شریعہ واقع ہے۔ جس طرح والتین والزیتون سے بیت المقدس کو شرف بخشا گیا ، طور سینین درحقیقت سیناء ہے اور والبلد الامین مکہ مکرمہ ہے۔ڈاکٹر عبدالرحیم نے اپنی آثاریاتی تحقیق کے دوران حضرت موسی علیہ السلام کے سفر کے مقامات کے تعین کی تصدیق کی۔ ان میں سب سے پہلا مقام جہاں بارہ چشمے پھوٹے تھے ، اس کے بعد سرابیت الخادم کا علاقہ ، اس کے بعد خلیج سوئز کے کنارے طور سیناء کا علاقہ جہاں بنی اسرائیل نے سونے کے بچھڑے کی عبادت کی تھی اور جبلِ شریعہ جہاں موسی علیہ السلام کو شریعتِ دین کی تختیاں دی گئی تھیں۔ بنی اسرائیل طور سیناء سے وادی حبران کے راستے وادی طوی منتقل ہوئے ، یہ علاقہ اب سینٹ کیتھرین کہلاتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.