جنات کی اصل حقیقت

جب یہ ارادہ ہوا کہ زمین کی مٹی سے ایک انسان بنایا جائے اور اسی زمین پر وہ رہے کھائے پئے اور امتحان دے کر جنت یا دوزخ کے قابل بن جائے تو زمین سے مٹی کو اٹھایا گیا اور اس زمین پر جو پہلے سے مخلوقات موجود تھیں جن میں نسام نکیب جنات وحالہ و کیف وغیرہ ان سے یہ کہا گیا کہ وہ محدود ہوجائیں اپنے کام رات کو انجام دیں اور دن میں اسی زمین میں چھپ جائیں تو اس بات پر جنات میں بغاوت ہوگئی اور قبیلہ رذیل و زعفر اور قبیلہ کُبَیرہ کے بیچ میں اختلافات ایسے بڑھنے لگے کہ بالآخر اللہ نے عزازیل سے کہا کہ جاؤ فرشتوں کی فوج لے کر جنات سے مقابلہ کرو۔

اور اللہ کے حکم سے عزازیل اپنے ساتھ لاکھوں فرشتوں کی فوج لے کر گیا اور ہر فرشتہ کے کندھوں پر پانی کے پہاڑ تھے اس طور زمین پر پانی موجود نہ تھا اور تبھی جنات کی طاقت عروج پر تھی بس زمین پر پانی کو برسایا گیا اور آگ سے بن ہوئےجن تڑپنے لگے اور یہ حکم نافذ ہوا کہ وہ محدود ہوجائیں اس زمین پر آج کے بعد صرف جنات کا راج نہ ہوگا اور یوں کچھ تڑپنے لگے کچھ مرنے لگے کچھ رونے لگے اور بالآخر فرشتوں نے فتح حاصل کی اور جنات کو شکست مل گئی لیکن وہ جو پانی کے پہاڑ فرشتے جنت سے لے کر زمین پر آئے تھے وہ جنت کا پانی زمین پر پھیل چکا تھا اور یوں اس پانی نے سمندر کی شکل اختیار کر لی اور تب سے وہ سمندر کا پانی سورج کی گرمی سے فضا کے توسط سے آسمان پر آتا ہے اور پوری زمین پر بارش برساتا ہے۔

اور وہی پانی کبھی سردی سے جم جاتا ہے تو کبھی گرمی سے پگھل جاتا ہے اور اسی پانی سے پھر اللہ نے اسی زمین پر سبزہ اگایا زمین پر پھول مہکنے لگے سبزیاں اگنے لگیں اناج ابھرنے لگے اور دھیرے دھیرے یہ زمین جو پہلے ایک بنجر زمین تھی وہ جنت کی مثل لگنے لگی اور اسی پانی کے راج کو اللہ نے یہ حد رکھی کہ جب تک یہ پانی ہوگا تب تک جنات کی طاقت انسانوں پر حاوی نہیں ہوگی تبھی اگر کسی انسان پر جن کبھی کبھار حلول کر بھی لے تو اس کو پانی تبھی ماراجاتا ہے کیونکہ پانی سے جن تڑپ اٹھتے ہیں اور اس پانی سے ایک وعدہ لیا گیا کہ عنقریب اللہ ایک مخلوق بناچکا ہے جس کو اشرف المخلوقات کے لقب سے نواز چکا ہے اس مخلوق کو اس زمین کے سینے پر اتارے گا اور اس کی زندگی اسی پانی کے سبب بڑھائے گا پانی کو یہ حکم دیا گیا۔

کہ وہ ایک محدود وقت کے لئے اس زمین پر ٹھہر ا رہے لیکن جب شیطان نے اس اشرف المخلوقات کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تو جنات میں پھر سے بغاوت ہوگئی اور شیطان نے اللہ سے یہ کہا کہ اے میرے خالق تو مجھے اتنی عبادت کا صلہ کیا دے رہا ہے اللہ نے کہا اے عزازیل مانگ کیا مانگتا ہے اس نے کہا مجھے اتنی مدت دے اور میری قوم کو اتنی طاقت دے کہ میں اس کو گمراہ کر سکوں تو اللہ نے کہا جا تو بھی اس زمین پر اپنے قبائل کے ساتھ رہ اور کو ششیں کرتا رہ جو میرے نیک بندے ہوں گے وہ کبھی تیری پکڑ میں نہیں آئیں گے تو شیطان نے کہا اے میرے اللہ میں زمین پررہوں تو سہی لیکن ہمارا زمین پر رہنا محال ہے کیونکہ وہاں پر پانی بستا ہے اور ہم آگ کے بنے ہوئے ہیں ہمارا وہاں کوئی بس نہیں چلتا اور ہماری قوم وہاں حقیر سی لگتی ہے۔

اور پھر اللہ نے فرشتوں سے کہا کہ جاؤ نمک کے پہاڑ اٹھاؤ اور جو زمین پر پانی موجود ہے اس میں ڈال دو تا کہ زمین کا پانی جو ٹھہرا ہے وہ نمکین ہو جائے اور اس پانی کے کڑوے ہونے کی وجہ سے جنات بھی اس زمین پر اپنی حکومت کر سکیں اور پھر یہ کہا گیا کہ اے عزازیل سن لے جو پانی سمندر میں ہے اس کے کڑوے ہونے کی وجہ سے تیری طاقت میں کوئی قلت نہیں آئے گی لیکن جب یہ پانی اس نمک سے الگ ہوکر آسمان میں بادل بنے گا اور بادلوں سے برسے گا اس کی بوند بوند میں وہ شفا ہوگی جو تیری طاقت کو حقیر بنائے گی۔امام علی ؓ نے فرمایا اگر کسی انسان پر کسی برے جن کا اثر ہوجائے تووہ برسات کا پانی اس مریض پر چھڑکے تو اللہ کے کرم سے برے سے برا جن بھی بہت تکلیف دیکھے گا اور انسان سے دور ہوجائے گا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.