حضور ﷺ نے ان لوگوں کے متعلق کیا فرمایا جو اپنے استعمال شدہ پرانے کپڑے ۔۔۔؟

آج کے دور میں بہت سارے مسائل ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ جسے دوسرے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں وہ ہے تنگدستی کا مسئلہ یعنی اگر آپ کے رزق میں کمی ہے اور آپ کے رزق میں برکت نہیں ہے یا کسی وجہ سے آپ کے رزق سے برکت اٹھا لی گئی ہے تو یہ مسئلہ آپ کے لئے دوسرے بہت سے مسائل کا باعث بن سکتا ہے آج کل غربت و افلاس اور بے برکتی بہت عام ہو چکی ہے خواہ کسی طبقہ کا آدمی ہو ہر ایک کی زبان پر یہ شکایت ہے کہ گھر میں ہرطرف سے پریشانیوں نے گھیر رکھا ہے اچھی آمدنی اور بہتر تنخواہ کے باوجود روزی میں برکت نہیں ہے ایسا لگتا ہے کسی نے جادو کر دیا ہے یا کسی کی نظر بد لگ گئی ہے۔

بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جب مناسب آمدنی کے باوجود ضروریات زندگی پوری نہیں ہوپاتی تولوگ رشوت خوری سودی کاروباری جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ہمیں سب سے پہلے یہ پتہ لگانا چاہئے کہ آخر غریبی و مفلسی کی وجوہات و اسباب کیا ہیں اور پھر کیسے ان مصیبتوں سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے ۔اس تحریر میں اولا تنگ دستی کے اسباب بیان کریں گے پھر اس عمل کا ذکر کریں گے جس سے خیرو برکت حاصل ہوتی ہے۔اسلام ایک مکمل دین ہے جو انسانیت کے لئے فلاح و بھلائی کا پیغام لایا ہے اس مذہب نے انسانیت کو اہم بنانے کے لئے بہت سے اسباب دیئے ہیں۔

ان اسباب کے تحت کئی باتیں ایسی ہیں جن پر بحثیت انسان ہمیں عمل کرنا چاہئے جو نہ صرف ہمارے لئے مفید ہوں بلکہ ہمارے ماحول ارد گرد رہنے والوں کو بھی فائدہ پہنچا سکیں دوسری طرف کئی باتیں ایسی ہیں جن پر عمل کرنا اسلام میں پسند نہیں کیا گیا اور ایسا کرنے سے غربت کے امکانات گھر میں بڑھتے ہیں اورلوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ جو کام وہ کررہے ہوتے ہیں یہ ہمارے گھر میں کیا تبدیلی لاسکتے ہیں اور ہماری زندگی پر ان کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ان اعمال کی وجہ سے گھر میں تنگدستی اور غربت آسکتی ہے ان میں سب سے پہلا سبب ہے بچے ہوئے کھانے کو پھینک دینا پاک رزق کو ناپاک جگہ پر پھینکنا بے۔

حرمتی ہے کوشش کریں بچ جانے والا کھانا پرندوں کو یا جانوروں کو کھلا دیں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے ایک حدیث شریف کا مفہوم کچھ یوں ہیں کہ رحمت دو عالم ﷺ تشریف لائے تو روٹی کا ٹکڑا زمین پر پڑا ہوا دیکھا آپ ﷺ نے اسے اٹھایا صاف کیا اور تناول فرما لیا غریب پرور آقا ﷺ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا اچھی چیز کا احترام کرو روٹی جب کسی سے بھاگتی ہے تو لوٹ کر نہیں آتی اچھی چیز سے مراد اللہ عزوجل کی دی ہوئی تمام نعمتیں ہیں جو چیز زائد معلوم ہو کسی حقدار کو دے دیا کریں انسان کی لالچ انسان بڑا ہی حریص واقع ہوا ہے تھوڑے پر کفایت کرنا انسان کی طبیعت پر گراں گزرتا ہے بہترین کی لالچ میں بہتر بھی گنوا دیتا ہے اور قصور وار حالات کو ٹھہراتا ہے۔

اگر ہم میں سے ہر کوئی قناعت اختیار کرلے اور اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں راضی ہوجائے تو اللہ اسی میں برکت ڈال دیتا ہے جبکہ مزید کی حرص انسان کے مال سے برکت کردیتی ہے ۔جو لوگ اپنے استعمال شدہ کپڑے غریبوں کو دیتے ہیں ان کو چاہئے کہ کبھی کبھار نئے کپڑے بھی غریبوں میں تقسیم کیا کریں کبھی ایسا بھی کر لیا کریں کہ اپنا ایک سوٹ زیادہ مہنگا لینے کی بجائے دو سوٹ درمیانی قیمت والے لے لیں ایک خود پہن لیں اور دوسرا کسی غریب کو دے دیں یہ بھی بہت بڑی بات ہے کہ غریب جیسا کپڑا ہی خود پہنیں اور اپنے جیسا کپڑا ہی غریب کو پہنائیں ۔اس پر اللہ آپ کے مال و دولت میں بے حد اضافہ فرمائے گا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.