نرمی اختیار کرو

نرمی اسلام میں نہایت پسندیدہ اخلاقی وصف ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اس وصف کو مؤمنوں کے ساتھ خاص کیا ہے۔ احادیث نبویؐ میں اس صفت کو ابھارا گیا ہے، کیونکہ یہ مسلمان کی انفرادی زندگی کو بھی مزیّن بناتی ہے اور اجتماعی زندگی پر بہت مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ جس کو نرم خوئی حاصل ہوئی اسے اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے بڑی نعمت مل گئی، جو اس کی دنیا اور آخرت دونوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔نرمی کے لیے عربی زبان میں الرفق اور اللین اور ھین کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں، جس کے معنی نرمی اور ایک جانب جھکاؤ کے ہیں، کام کو آسان بنانا اور دشواری سے بچانا بھی اس کے مفہوم میں داخل ہے۔ العنف کا لفظ اس کا عکس اور متضاد ہے۔

جس کے معنی درشتی اور سخت روی کے ہیں اس سے مراد رفقاء کی خاطر داری ہے، اور جھک کر معاملات کو اچھے انداز سے برتنا، اور آسانی کو اختیار کرنا ہے وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھوناً واذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلاماً رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہم ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام نرمی ایک قلبی وصف ہے جو تمام انسانوں کو میسر نہیں آتا اور بلکہ یہ انسانوں کے فرق کے لحاظ سے مختلف درجوں میں پایا جاتا ہے، جن لوگوں کو نرمی کی صفت ملی، انہیں بہت خوبصورت عطائے ربانی حاصل ہوئی۔ نرم دل انسان صرف انسانوں سے ہی نرمی نہیں برتتا بلکہ اللہ تعالی کی تمام مخلوقات کے لئے نرم دل ہوتا ہے۔ الرفق کا متضاد العنف ہے، یعنی سخت روی، سنگ دلی اور قساوت، یہ صفت لوگوں کے دلوں میں دوری پیدا کرتی ہے۔

اوریہ تعمیر جگہ تخریب اور اصلاح کی جگہ فساد کی راہ ہموار کرتی ہے، انسانوں میں تند خو، سخت گیر اور متکبر لوگ جن کا دل قساوت اور شدت سے بھرا ہوتا ہے، تباہی، بربادی اور مسمار کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ قرآن میں ان کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے: واذا تولّی سعی فی الارض لیفسد فیھا ویھلک الحرث والنّسل، وااللہ لا یحب الفساد جب اسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسلِ انسانی کو تباہ کرے، حالانکہ اللہ فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ سخت دل شخص نرمی کو ذلت اور رحم کو کمزوری سمجھتا ہے، وہ سختی کو مردانگی، قساوت کو قوت اور تشدد کو اصول پسندی سمجھتا ہے، حالانکہ کسی مسلمان کو خوف میں مبتلا کرنا، اذیت دینا اور رعب میں مبتلا کرنا درست نہیں۔

اور نرمی سے طبیعت قربت اور انس محسوس کرتی ہے، اور خشونت اور سختی سے دور بھاگتی ہے۔ اسلام باہمی معاملات میں نرم رویہ اختیار کرنے پر ابھارتا ہے۔ اس صفت کا ذکر اللہ تعالی سورۃ آل عمران میں فرماتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ کی کیا صفت تھی جس نے مؤمنوں کے دلوں کو ان سے جوڑ دیا: فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم ولو کنت فظاً غلیظ القلب لانفظوا من حولک اے پیغمبرؐ! یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے بڑے نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گرد وپیش سے چھٹ جاتے۔ اس آیت میں اللہ تعالی کئی حقائق کی جانب اشارہ فرماتے ہیں، اس میں اللہ تعالی کی اس رحمت کا ذکر ہے جو اس نے نبی کریم ﷺ کے اخلاق میں پیدا کی، اور یہ ان میں نرم دلی، آسانی اور رحیمانہ صفات ہیں، جن کی بنا پر دل ان کی جانب لپکتے ہیں، اور لوگ ان سے الفت برتتے ہیں۔

اسی نرمی اور شفقت کی صفت کا ذکر سورۃ التوبۃ میں فرمایا: لقد جاء کم رسول مّن انفسکم عزیز علیہ ما عنتّم حریص علیکم بالمؤمنین رؤوف رّحیم دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم میں سے ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔ یعنی جہاد جیسے مشکل کام کے لیے اس کا تمہیں بلانا بھی اس کی تم پر مہربانی اور شفقت ہے کیونکہ تمہارا ذلت اور پستی میں پڑنا اسے گوارا نہیں، اور وہ اس بڑے عمل کے ذریعے تمہاری مغفرت اور گناہوں کی معافی چاہتا ہے، وہ تمہاری آخرت کا نقصان نہیں چاہتا ، بلکہ تمہاری فلاح کا حریص ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.