حضرت علی رضی اللہ نے فرمایاخدا سے جب بھی مانگو تومقدر مانگو عقل نہیں کیونکہ ؟

جہنم میں لکڑیاں نہیں ہوں گی ، وہاں ہرکوئی اپنی آ گ خود ساتھ لائے گا۔ ح رام کی کمائی سے بلڈنگ بنا کر باہر ماشاءاللہ کی تختی لگا کر شی طان بھی سوچتا ہوگا

یہ مجھ سے بھی دو قدم آگے نکلا۔ اپنی ذات کے اندر ایک ایسا انسان ڈھونڈ و جو صرف اپنے لیے ہی نہیں دوسروں کے لیے بھی جینا جانتا ہو۔ اگر آپ کو روکنے ٹوکنے والا ، ڈانٹ ڈپٹ کرنے والا یا اصلاح کرنے والا کوئی موجود ہے تو شکر ادا کریں ۔ کیونکہ جس باغ کا کوئی مالی نہ ہو وہ بہت جلد اجڑ جاتا ہے۔ کوشش کیا کریں کہ فارغ وقت میں نبی کریمﷺ پر دورد شریف پڑھ لیاکریں۔ اپنے حصے کاکام کیے بغیر دعا پر بھر وسہ کرنا حماقت ہے

اور اپنی محنت پر بھروسہ کرکے دعا سے گریز کرنا تکبر ہے۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو پریشان ہوتے ہیں توفوراً قرآن کریم کھول کر اطمینان پالیتے ہیں۔ منزل کبھی گھر آکر دستک نہیں دیتی، اس کے حصول کے لیے ، راستوں پر چلنا پڑتا ہے۔ زمین کے اوپر کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے کچھ لمحے کے لیے صرف ایک بارسوچیں کہ ہمارا یہ عمل زمین کے نیچے ہمارے لیے کس نتیجے کا باعث ہوگا۔ محنت کا پھل اور مسئلے کا حل رب دے گا یہ مت سوچو کہ کب دے گا جب دے گا سب دے گا۔

کچھ نیکیاں ایسی بھی ہونی چاہیے جن کا اللہ کے سو ا کوئی گواہ نہ ہو۔ دنیا اس سے زیادہ روشن نہیں ہوسکتی جتنی روشنی آپ کے اپنے اندر ہے اور اپنے اندر روشنی اتنی ہی ہوتی ہے ۔ جتنا آپ کا اپنے خالق سے تعلق۔ دانائی کاتعلق بالوں کی سفید ی سے نہیں ، بلکہ عقل اور تجربے سے ہے ، اگر دل ہی سیاہ ہو تو داڑھی کے سیاہ بالوں کی کیا وقعت۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے تین چیزیں انسان کو اللہ سے دور کرتی ہیں۔ اپنے اعمال کو زیادہ سمجھنا، اپنے گن اہوں کو بھول جانا اور اپنے آپ کو سب سے بہتر سمجھنا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.