نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا مجھے کچھ سکھائیے لیکن زیادہ نہ بتائیے تاکہ میں اسے یاد رکھ سکوں

حضرت ابو ایو ب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے (کسی دوسرے مسلمان ) بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلا م بند رکھے۔ جب دونو ں کا آمنا سامنا ہوتو وہ اس سے منہ پھیر لے اور یہ اس سے منہ پھیر لے ، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا: مجھے کچھ سکھائیے لیکن زیادہ نہ بتائیے تاکہ میں اسے یاد رکھ سکوں، آپ ﷺ نے فرمایا: غصہ مت کرو۔ وہ کئی بار یہی سوال دہراتا رہا اور آپ ہر بارکہتے رہے غصہ مت کرو۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ۔جو مومن دنیا میں کوئی بھی نیکی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر ظل م نہیں کرے گا اس کو دنیا میں بھی اورآخرت میں بھی جزا دی جائے گی، رہا کافر تو اس نے دنیا میں جو نیکیاں کی ہیں ان کا اجر اسکو دنیا میں دے دیا جائے گا اور جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کو جزا دینے کے لئے کوئی نیکی نہیں ہوگی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ۔جب کسی مومن کی روح نکلتی ہے تو 2فرشتے اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں

تو آسمان والے کہتے ہیں یہ پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے اللہ تعالیٰ تم پر اور اس جسم پر جسے روح آباد رکھتی تھی رحمت نازل فرمائے پھر اس روح کو اللہ عزوجل کی طرف لے جایا جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ تم اسے آخری وقت کے لئے لے جاؤ ۔آپؐ نے مزید فرمایا کافر کی روح جب نکلتی ہے تو آسمان والے کہتے ہیں کہ خب یث روح زمین کی طرف سے آئی ہے پھر اسے کہا جاتا ہے تم اسے آخری وقت کے لئے سجن(جی ل خانہ) کی طرف لے جاؤ، پھر یہ بیان کرتے ہوئے

رسول کریم ﷺ نے اپنی چادر اپنی ناک مبارک پر رکھ لی تھی۔ (کافر کی روح کی بدبو ظاہر کرنے کے لئے آپؐ نے اس طرح کیا) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ۔جس سے قیامت کے دن حساب لیا گیا وہ ع ذاب میں مبتلا ہوگیا۔ میں نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا جس شخص کو اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو جلد ہی اس سے آسان حساب لیا جائے گا (سورۃ انشقاق ۸۴، آیت۸۔۷) آپؐ نے فرمایا اس آیت میں جس حساب کا ذکر ہے وہ تو معمولی پوچھ گچھ ہے اور جس سے قیامت کے دن حقیقی حساب لیا جائے گا، اسے ع ذاب دیا جائے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.