شوہر کویہ جملہ بولنے والی عورت ضرور جہن م میں جائیگی؟

رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: خواتین سے خطا ب کیا کہ عورتیں جہن م میں مردوں سے زیادہ ہوں گی۔ خواتین نے پوچھا کیوں؟

اس حدیث میں عورتیں زیادہ ہوں گی۔ دوسری حدیث میں آتاہے کہ جنت میں بھی عورتیں زیادہ ہوں گی۔ یہ اس لیے بتارہے ہیں۔کہ خواتین ڈر جاتی ہیں۔ کہ ہم یہاں بھی ہیں ہم وہاں بھی ہیں۔ تو یہ کیا بات ہے؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ خواتین کی آبادی ہی زیادہ ہوگی ادھر بھی زیادہ ادھر بھی زیادہ۔ تو پوچھا گیا وجہ کیا ہے آپﷺنے فرمایا: شوہر کی نافرمانی کرتی ہو۔ ناشکر ی کرتی ہو۔ کفر کہتے ہیں ناشکری کو۔ کہ ایسے ناشکر ی فرمائے کہ ساری زندگی کھلاتا ہے پلاتاہے۔

آج کوئی مرد بیوی کو چھوڑ دے ۔ تواس کا کیا پرسکون حال ہوتاہے؟ ہمارے معاشرے میں۔ گھر اس کو لے دیتا ہے ۔ گیس ، بجلی کابل ، چھت مہیا کی اس کو ۔ تحفظ دیا اس کی اولاد کا ہمیشہ محافظ بنا۔ اتنے بڑے بڑے انعامات ، احسانات ۔ اور نبی ﷺنے فرمایا: کسی دن تھوڑی سی اونچ نیچ ہوگئی ۔ اس کی تنخواہ کم ہوگئی۔ بے چارے اب گو ش ت نہیں لا پارہا ہے۔ توریوں پر گزارا کروارہا ہے۔ ناشتے پر انڈے کا انتظام نہیں کرسکا۔ آج بیگم ناشتے کے بغیر رہ لو آج ناشتہ نہیں کرتے ۔

تھوڑی تنخواہ اور حالات سخت چل رہے ہیں۔ یا ناشتہ کرو مگر انڈہ نہ منگواؤ۔ پراٹھوں کو ڈبو کر کھانے کا مفتی صاحب نے کہا اپنا ہی مزہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کبھی کچھ ہوجائے ۔ تو طعنہ کیسے دیتی ہے۔ میں نے کبھی بھی آپ سے خیریالیکن بہت سی عورتیں کام کرتی ہیں۔ کہ میں نے آپ سے کبھی خیر نہیں دیکھی ۔ میں جب سے آپ کے گھر آئی ہوں مجھے ملا کیا ہے۔ کتنا بڑا زندگی بھر کے ہمارے مسلم معاشرے میں تو مرد بہت زیادہ تحفظ دیتا ہے ۔

کیسے باپ اپنی بیٹی کے لیے رشتے تلا ش کررہے ہوتےہیں۔ کیونکہ اچھا آدمی مل جائے ۔ اور پھر طلاق سے ڈرتی بھی ہیں۔ طلا ق دے کر مجھ پر ظلم کردیا۔ طلا ق دے کر کیا کیا؟ اس نے مجھے خود سے جد ا کر دیا۔ اب روکیوں رہی ہو؟ اس کا مطلب اگر نہ وہ دیتا تو تم پر احسان تھا اس کا ۔ کہ اس نے تمہیں ٹھکانہ دیا ہوا ہے ۔ اور دینا غلط سمجھا جاتا ہے معاشرے میں ۔ اس لیے کہ جو تمام تحفظات اس نے دیے ہوئے تھے وہ تم سے چھین لیے ہیں۔ نقصان عورت کا ہوتاہے۔ کتنی بڑی فضیلت ہے ۔ لیکن نبی نے فرمایا: جو اسیر ہے نا وہ ہمیشہ ساتھ رہتا ہے تم اس کی ناشکر ی کرتی ہو۔

Sharing is caring!

Comments are closed.