کامیاب ہونا ہے تو یہ 3اصول اپنالو

اپنی زندگی میں صرف تین اصول بنا لینا۔ سب سےپہلے پہلے بن جانا۔ کیونکہ الفاظ تلوار سے بھی زیادہ بڑے گھاؤ رکھتے ہیں۔

کئی بار لوگ منزل کے قریب پہنچ کر بھی پیچھے مڑجاتے ہیں۔ فقط لوگوں کی باتوں کی وجہ سے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ چند مینڈک مل کر ایک جنگل میں جاتے ہیں ۔ اور راستے میں دو مینڈک ایک کنوئیں کےاندر گرجاتے ہیں۔ جس سے نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ لیکن وہ مینڈک نکلنے کے بھر پور کوشش کررہے تھے۔ اور باہر کھڑے مینڈک انہیں کہہ رہے تھے یہاں سے نکلنا ناممکن ہے۔ وہیں پر بیٹھ کر اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے ۔

کہتے ہیں جو جیت کے عادی بن جاتے ہیں۔ وہ صرف ہار کو بھی ہرا دیتے ہیں۔ ایک مینڈک بیٹھ کر پوری زندگی کی آخری سانسیں لینا شروع کردیتا ہے۔ پر ایک مینڈک اپنی کوشش جاری رکھتا ہے۔ اور کچھ دیر کے بعد وہاں سے باہر نکل آتا ہے۔ سارے مینڈک کھڑے یہ منظر دیکھتے ہیں ۔ا ور اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ جا کر پوچھتے ہیں کہ تم یہاں سے کیسے نکلے؟ تو وہ مینڈک کہتا ہے کہ آپ نے کیا کہا؟ وہ پھر پوچھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ مینڈک بہرہ تھا ااس لیے نکل آیا۔

اگر وہ یہ سن لیتا کہ یہاں سے نکلنا ناممکن ہے تو شاید وہ بھی اسی مینڈک کی طرح اس کنوئیں میں بیٹھ کر اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہوتا۔ زندگی کا پہلا سبق بہرے بن جانا۔ اور دوسرا سبق کہ اپنے راستے میں آنے والی ہر اک چیزکو کبھی بے مقصد نہ سمجھنا۔ کیونکہ کہتے ہیں کہ ایک شخص سے ایک سقراط کےپا س جاتا ہے۔ اور جا کر کہتا ہے کہ آپ مجھے کامیابی کا ایک راز بتائیں ؟ سقراط اسے دریا پر لے کرجاتے ہیں ۔ اور جا کر کہتے ہیں کہ اس کے اندر اترو۔ وہ شخص دریا کے اندر جاتا ہے اور سقراط بھی چلے جاتےہیں۔ سقراط اس شخص کی گردن کو پکڑ اس کو پانی کے اندر ڈال دیتے ہیں۔

اس شخص کی سانسیں چلنا بند ہوجاتی ہیں۔ اور کچھ دیر کے بعد جب گردن پانی سے باہر آتی ہے۔ تو وہ شخص ایک لمبی سانس لیتاہے۔ سقراط پوچھتے ہیں کہ تم نے پانی کے اندر سب سے زیادہ کس چیز کی ضرورت محسوس کی ۔ تو وہ شخص کہتا ہے صرف ہوا کی۔ تاکہ میں کھل کے سانس لے سکو۔ تو سقراط کہتے ہیں یہی کا میابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ کہ زندگی میں کبھی بھی کسی بھی چیز کو بے مقصد نہیں سمجھنا۔ ہاں ایک پانی بھی اہمیت رکھتا ہے۔

ایک مشکل بھی اہمیت رکھتی ہے ۔ زندگی میں ہر مشکل تمہیں جب سکھاتی ہے وہ کچھ اہمیت رکھتی ہے۔ انسان زندگی میں صرف اسی چیز کی قدر کرتا ہے ۔ جو اسے کچھ سکھا کے جاتے ہیں۔ لیکن یا د رکھنا کہ سیکھنے سے پہلے بھی ہر ایک چیز کی قدر کرنا سیکھ لیں۔ کیونکہ ایک تنکا جب آپ کے اندر جاتا ہے ۔ تو پتہ اس وقت چلتا ہے کہ وہ کتنی طاقت رکھتا ہے۔ اپنی زندگی کا صرف تیسرا اصول بنالینا ہے کہ ہرایک مشکل کو اپنا موقع بنالینا۔ کہتے ہیں کہ ایگل جب پرواز کرتا ہے۔

تو کئی بار طوفان آجاتے ہیں۔ لیکن وہ طوفانوں کے آنے کے انتظار میں ہوتا ہے کیونکہ جیسے ہی طوفان آتا ہے وہ طوفان کے سامنے جاکر کھڑا ہوتا ہے۔ اور اس طوفان کے اوپر چڑھنے کی کوشش کرتاہے۔ اورپھر ان تیز ہواؤں کے اوپر بیٹھ کر لمبی اڑا ن کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ اور دیکھتے دیکھتے ہی اس طوفان کے استعمال وہ اپنی اڑان کو اور اونچا کرلیتاہے کیونکہ اس نے طوفا ن کو دیکھ کر گھبرانہ شروع نہیں کیا تھا۔ بلکہ آگے بڑھنے کا عز م شرو ع کردیا تھا۔ خود کو بتادیا تھا کہ ہاں طوفان ہی مجھے اوپر اڑا کر لے کر جارہا ہے۔ اور وہی طوفان اسے اوپر اٹھا کر لے جاتا ہے۔ زندگی میں ہرمشکل کو موقع بنانا سیکھ لینا۔ کیونکہ جب مشکلیں موقع بدلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ تو پھر منزل کی طرف سفر آسا ن ہونا شروع ہوجاتاہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.