ایک صحابی نے کچھ ہی عرصہ یہ عمل کیا

آج ایک ایسا عمل آ پ کی خدمت میں لے کر آئے ہیں۔ یقین کریں ! اس عمل کو میں خود بھی کرتا ہوں۔

اور روز کروں۔ اور اس عمل کوآپ بھی کریں گے ۔ آپ سارے عمل ایک طرف رکھیں گے ۔ یہی عمل کرنا شروع کردیں گے ۔وہ عمل کیا ہے؟ وہ آپ کوبتاتے ہیں۔ ایک صحابی تھے جو حضوراکرم ﷺ کےپا س حاضر ہوئے۔ اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ : بہت سی پریشانیا ں ہیں ۔ اور قرضوں نے جکڑ لیا ہے۔ اپنے بھی بیگانے ہوگئے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ جب آپ کی جیب میں پیسا نہ ہو ۔ فقروفاقہ کی نوبت آجائے ۔ صبح کھانا کھاتے ہیں کہ رات کو ملے گا یا نہیں ملے گا؟ جب ایسی نوبت آجاتی ہے تو اپنے بیگانے ہو ہی جاتے ہیں۔ جب جیب میں ہوگا پیسا تو لوگ پوچھیں گے بھائی تو ہے کیسا! یہ صورتحال ہے آج کل ۔ آپ ﷺ نے پھر ان صحابی کو فرمایا : یہ عمل کرو۔

اور پھر اپنی پریشانی مجھے آکر بتانا۔ یعنی کیا فرمایا کہ یہ عمل کرو اور پھر آکر بتانا اب تمہیں پریشانی ہے یا نہیں ہے۔ اب فرمایا: جب تم گھر میں داخل ہوتو یہ لفظ ادا کرو۔ چاہے گھر میں کوئی ہو یا نہ ہو۔ وہ کیا؟ گھر میں داخل ہوتے ہی ” السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ ” کرو۔ اور پھر ایک مرتبہ درود شریف پڑھو۔ چا ہے وہ درود ابراہیمی ہو یا مختصر والا درود شریف ہو۔ درود ابراہیمی پڑھ لو تو زیادہ بہتر ہے ۔ اور اس کے بعد ایک مرتبہ ” سورت اخلاص ” پڑھو۔ چنانچہ وہ صحابی جو تھے جن کو حضوراکرمﷺ نے یہ عمل بتایا۔ انہوں نے یہ عمل کرنا شروع کردیا۔ اور کچھ عرصے کے بعد آکر بتلایا کہ جتنے میں میرے تمام پریشانیاں تھیں وہ تو سب دور ہوگئیں۔ اور قرضوں نے جو جکڑا ہوا تھا اللہ کے فضل وہ تمام قرض ادا ہوگیا۔ تمام کا تمام قرض ختم ہوگیا۔ آگے کیا فرماتے ہیں ؟

وہ فرماتے ہیں صحابی کہ اب تو اتنا زیادہ میرا پاس پیسا آرہا ہے۔ کہ میں پڑوسیوں کو دیتا ہوں تو ختم نہیں ہوتا۔ اللہ اکبر۔ یعنی اتنا مال آگیا ہے کہ اب پڑوسیوں کو بانٹنے لگے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس عمل کی کیوں ایسی برکت نہیں ہوگی؟ جب حضور اکرم ﷺ نے صحابی کی یہ خوشی سنی اور یہ اثر دیکھا اس عمل ۔ تو فرمایا: بھائی اس عمل کی یہی تاثیر ہے۔ یعنی کیا مطلب ۔ کہ یعنی کہ قرض بھی ختم ہوجاتا ہے پریشانیاں بھی ختم ہوجاتی ہیں انسان کی جو صورتحال لینے والی تھی اب دینےوالی بن گئی ہے۔ لوگوں کو بانٹنا والے بن جاتا ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا بن جاتا ہے کیا یہ وہ عمل نہیں ہےجو سارے عمل کا اگر کہوں کہ سردار ہے تو مبالغہ ارائیں نہیں ہوگی ۔ اگرآپ سچے دل سے حضور ؐ کے فرمان پر یقین کرتے ہوئے یہی عمل کرنا شروع کردیں۔

اپنے بچوں کو سکھائیں کہ جب گھر میں داخل ہوں ۔ تو زور سے ” السلام علیکم ” کہو۔ چاہے گھرمیں کوئی ہو یا نہ ہو۔ اور پھر درود شریف اور سور ت اخلاص پڑھو۔ سب کی پابند ی لگا دیں۔ا ور سب کو کہیں کہ تاکید کے ساتھ یہ عمل کرنا شروع کردیں۔ چند عرصہ بعد جیسے ان صحابی کی تقدیر بدلی آ پ کی کیوں نہیں بدلے گی؟ بات ساری یہ ہے کہ ہم نے یقین کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ اس لیے ہم لوگ در بدر کی ٹھو کریں کھارہے ہیں۔ اگر آپ اپنی پریشانیاں دور کرنا چاہتے ہیں۔ قرضوں کا پہاڑ اپنے سر سے ہٹانا چاہتےہیں اور اپنے لینے کے بجائے دینے والا بننا چاہتےہیں ۔ تو پھر یہ عمل لازمی کریں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.