”تین چیزیں ہمیں مفت ملتی ہیں ؟ مگر ان کی قیمت کا تب پتا چلتا ہے جب یہ کھو جاتی ہیں ؟“

وقت ، دولت اور رشتے یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمیں مفت میں ملتی ہیں مگر ان کی قیمت تب پتا چلتی ہے جب یہ کہیں کھو جاتی ہیں۔

ایک وقت آتا ہے کہ کوئی اچھا لگتا ہے نہ برا نہ صحیح، نہ غلط کیونکہ وہ دل سے اتر چکا ہو تا ہے ، تو پھر اس سے نہ ہی نفرت ہوتی ہے ، نہ محبت رہتی ہے دل خالی ہوجاتا ہے ، ہر جذبات سے ۔ سچی محبت قسموں اور وعدون سے نہیں بلکہ پرواہ سے ظاہر ہو تی ہے۔ یہ زندگی ہے صاحب اُلجھے گی نہیں تو سلجھے گی کیسے ؟ بکھرے گی نہیں تو نکھرے گی کیسے ؟ صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ کبھی کبھی دور ہونا بھی چاہئے دور جانے سے نفرتوں کی گرہ اُتر جاتی ہے محبت کی صورت واضح نظر آنے لگتی ہے ۔ تنہائی ایک خطرناک ن ش ہ ہے جب کوئی شخص اس میں موجود سکون کو تلاش کرتا ہے پھر وہ شخص لوگوں سے میل ملاپ چھوڑ دیتا ہے ۔ زندگی کو بس اتنا جانا ہے ، دکھ میں اکیلے ہمیں خوشیوں میں سارا زمانہ ہے۔.

ایک خوبصورت دل ہزار خوبصورت چہروں سے بہتر ہے اس لئے زندگی میں ہمیشہ ایسے لوگوں کا انتخاب کریں ، جن کے دل ان کے چہروں سے زیادہ خوبصورت اور صاف ہوں۔ اگر تم عظمت کی بلندیوں کو چھونا چاہتے ہو تو اپنے دل میں انسانیت کے لئے نفرت کی بجائے محبت پیدا کرو۔ اس دنیا میں کوئی خزانہ سانپ کے بغیر کوئی پھول کانٹے کے بغیر اور کوئی خوشی غم کے بغیر نہیں ہے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر سابقہ اُمتیں پیش کی گئیں تو ایک نبی گزرنے لگے جن کے ساتھ کثیر تعداد تھی، کسی نبی کے ساتھ گروہ تھا، کسی نبی کے ساتھ دس افراد تھے، اور کسی نبی کے ساتھ پانچ افراد تھے، اور کوئی نبی اکیلا ہی تھا، اُسی دوران میں نے ایک جمِ غفیر دیکھا تو پوچھا: جبرئیل! یہ میری اُمت ہے؟ اُس نے کہا: .

نہیں! بلکہ آپ آسمان کے کنارے کی طرف دیکھیں تو میں نے عظیم جمِ غفیر دیکھا۔ اس نے کہا: یہ آپ کی اُمت ہے؟ ان میں سے پہلے ستر ہزار افراد بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ میں نے کہا: کیوں؟ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو نہ داغ لگوا کر علاج کراتے تھے، نہ غیر شرعی جھاڑ پھونک کراتے تھے، نہ بد شگونی لیتے تھے اور اپنے رب پر کاملاً توکل کرتے تھے۔ پس عکاشہ بن محصنص نے کھڑے ہوکر عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے اُن میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اِسے اُن میں شامل فرما لے، پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی اُن میں شامل فرما لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ اس پر تجھ سے پہل لے گیا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔
آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.