”جو لوگ مسور کی دال شوق سے کھاتے ہیں پہلے ہمارے نبی ﷺ کا فرمان سن لیں!“

دال مسور:اس دال کا تذکرہ قرآن پاک کی سورہ البقرۃ میں ملتا ہے قصہ یوں ہے

کہ حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو فرعون کے ظلم سے نجات دلانے کے لئے مصر چھوڑنے کی ترغیب دی اور کہا کہ ہمیں یہاں سے نکلنا چاہئے بہت ظلم ہوچکا ہے جس دیس میں ظلم ہو اس دیس کو چھوڑ دینا چاہئے۔حضرت موسیٰؑ بنی اسرائی کو اپنی قیادت میں لے کر وادی سینا میں چلے گئے

اس بے آب و گیاہ وادی میں بنی اسرائیلیوں کے پاس کھانے پینے کا سامان کم پڑگیا انہوں نے بھوک سے نڈھال ہوکر حضرت موسیٰؑ سے کہا کہ وہ انہیں کھانے کے لئے کچھ دیں یا اللہ سے دعا کریں۔کہ وہ ہمارے لئے کوئی انتظام کریں حضرت موسیٰؑ نے اللہ سے دعا کی کہ میری قوم کی بھوک مٹانے کا کوئی انتظام کر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے آسمان سے من و سلویٰ اتارا ۔کیا آپ جانتے ہیں کہ من و سلویٰ کیا ہے ؟بنی اسرائیل کے لئے اللہ نے دو طرح کے کھانے آسمان سے اتارے ایک کا نام من اور دوسرے کا نام سلویٰ تھا من بالکل سفید شہد کی طرح ایک حلوہ تھا یا سفید رنگ کی شہد تھی جو روزانہ آسمان سے بارش کی طرح برستی تھی اور سلویٰ پکی ہوئی بٹیریں تھیں جو ہوا کے ساتھ آسمان سے نازل ہوا کرتی تھیں

من و سلویٰ کے بارے میں حضرت موسیٰ ؑ کا حکم یہ تھا کہ روزانہ اس کو کھایا جائے۔اور دوسرے دن کے لئے ذخیرہ نہ کیاجائے مگر لوگوں کو یہ در لگنے لگا اگر کسی دن من و سلویٰ نہ اترا تو ہم لوگ اس بے آب و گیاہ چٹیل میدان میں بھوکے مرجائیں گے چنانچے ان لوگوں نے کچھ چھپا کر کل کے لئے رکھ لیا تو نبی کی نافرمانی سے ایسی نحوست پھیلی کہ جو کچھ لوگوں نے کل کے لئے جمع کیا تھا وہ سب سڑ گیا اور آئندہ کے لئے اس کا اترنا بند ہوگیا۔اسی لئے حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل نہ ہوتے تو نا ہی کھانا کبھی خراب ہوتا اور نہ گوشت سڑتا کھانے کا خراب ہونا اور گوشت کا سڑنا اسی تاریخ سے شروع ہوا ورنہ اس سے پہلے نا کھانا بگڑتا تھا۔نہ گوشت سڑتا تھا ایک روایت یہ ہے دوسری روایت یہ ہے کہ

بنی اسرائیلی یہ کھانا کھا کر تھک گئے تھے انہوں نے موسیٰؑ سے کہا کہ ہمیں وہی خوراک چاہئے جو ہم مصر میں استعمال کرتے تھے ہم نے کاشت کاری کرنی ہے اور زمینی اشیاء کھانی ہیں اس خوراک کو حاصل کرنے کے لئے قافلے کو ایک جگہ روک کر قیام کرنا پڑتا اور پھر کاشتکاری کرنا پڑتی یہ کاشتکاری منزل پر پہنچنے میں تاخیر کا سبب بنتی مگر بنی اسرائیلیوں کو اس سے کیا ؟بنی اسرائیل کاشتکاری کرتے ترکاریاں اگاتے پیاز اگاتے لہسن اگاتے اور مسور کی دال کے لئے کام کرتے یہ خدا کی اتاری ہوئی نعمت سے تنگ آگئے تھے۔مسور کا تذکرہ قرآن پاک میں بنی اسرائیلیوں کی وجہ سےملتا ہے پھر انہیں پانی کی یاد ستائی تو انہوں نے حضرت موسیٰؑ نے پانی مانگا حضرت موسیٰؑ کو اللہ کی طرف سے ہدایت کی گئی کہ

وہ ایک خاص چٹان پر عصاماریں جہاں سے پانی نکلے گا۔اللہ کے حکم کے مطابق اللہ کے نبی حضرت موسیٰؑ نے پتھر کے چاروں طرف عصاکو بارہ مرتبہ مارا چنانچہ بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں نے اپنے اپنے چشمے متعین کرلئے اور خوب سیر ہوکر پانی پیا ۔یہ تو قرآن پاک میں مسور کی دال کا تذکرہ تھا ۔رسول خداﷺ کی زبانی سنتے ہیں کہ وہ کیا فرماتے ہیں۔حضرت واثلہ ؓ روایت کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کدو کھاؤ یہ دماغ کو طاقت دیتا ہے اور مسور کی دال کھاؤ کہ اس کی تعریف ستر انبیاء ؑ کی زبان پر رہی حدیث مبارکہ کے مطابق مسور کی دال کا کھانا دل کو نرم اور سبک کرتا ہے آنکھوں کے پانی کے اخراج میں اضافہ کرتا ہے اور غرور ختم کردیتا ہے دل کی نرمی اور غرور کے خاتمے کے لئے بھی یہ غذا کھانی چاہئے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.