”حضرت علی ؓ نے فر ما یا: سخت پریشانی میں یہ آیت پڑھو۔ اسی وقت فرشتے مدد کے لیے اترنا شروع ہو ں گے“

آپ کا بھی مشاہدہ ہو گا کہ انسان بڑا ہی جلد باز ہے اس کے اندر صبر کرنے کی سکت نہ ہونے کے برابر ہے ہر کام میں یہ چاہتا ہے

کہ اس کا نتیجہ فوراً ظاہر ہو جا ئے پھر اسی طرح یہ انسان دعا کی قبو لیت کے حوالے سے بھی جلدی کی توقع رکھتا ہے یہ چاہتا ہے کہ جیسے ہی اس کی زبان سے آواز نکلے اس کی دعا قبول ہو جا ئے تو آج ہم آپ کو قرآنِ پاک کی ایک چھوٹی سی آیت بتانے جا رہے ہیں

جس کو پڑھنے سے اور اس کا ورد کرنے سے آپ انشاء اللہ اللہ تعالیٰ کی فوری مدد حاصل کر سکیں گے اللہ رب العزت کی ذاتی چاہت ہے کہ اس کا بندہ اس کی طرف رجوع کر ے اور اسی کو پکارے۔ اللہ تعالیٰ خود فر ماتا ہے کہ اے میرے بندے تو مجھ سے دعا کر میں تیری دعا قبول کر وں گا اور اللہ رب العزت کی وہ واحد ذات ہے جو مانگنے والے سے خوش ہو تی ہے

اس کے علاوہ آپ کسی سے بھی مانگو گے وہ ناراض ہو گا اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے مختلف انداز اور مختلف طریقے احادیثِ نبوی ﷺ میں بتائے گئے ہیں ۔ لیکن آج قرآنِ کریم کی جو آیت ہم آپ کو بتا نے جا رہے ہیں اس کی بر کت سے اللہ تعالیٰ انسان کی بہت جلد مدد فر ما تے ہیں ہمارے پاس اس آیت کی برکت سے مستفید ہونے والوں کی بہت سی شکر گزاریاں موجود ہیں

کہ کیسے اس آیت کی بر کت سے اللہ نے ان کی مشکلات کو آسان کیا اور اس کا یقین کے ساتھ ورد کرنے والوں پر کیسےمہر بانیاں کی گئیں ہم آپ کو آیت بھی بتائیں گے اور اس آیت سے جن لوگوں نے اپنی مشکلات حل کروائیں ان کا بھی بتائیں گے لیکن آپ سے گزارش ہے کہ میری ان باتوں کو آپ نے بہت ہی زیادہ غور سے سننا ہے تا کہ ان باتوں سے آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ حاصل ہو سکے۔ آج جو آیت ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں یہ حضرت علی  سے بھی منقول ہے

جس کے بارے میں فر ما یا گیا کہ سخت ترین مشکل میں بھی پڑھی جا ئے گی تو انشاء اللہ اس آیت کو پڑھنے سے آپ کی وہ مشکل ضرور دور ہو گی اور آپ کی تمام تر مشکلات ختم ہو جا ئیں گی ۔ وہ آیت ہے۔ جس کا ترجمہ ہے: ہم کو اللہ کا فی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے اس آیت کو پڑھنے سے اللہ کی ذات پر بندے کا اعتماد اور یقین مضبوط ہو جا تا ہے اور جب بندہ اللہ پر توقع اور یقین کر لیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستے کھول دیتے ہیں۔ اس آیت کو روزانہ پانچ سو مر تبہ ورد کر نا مشکلات کو دور کر تا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.