”حمل ٹھہرنے کے بعد بیوی سے کتنے مہینے تک قربت کر نا جائز ہے؟“

حمل ٹھہرنے کے بعد شوہر اپنی بیوی سے کتنے عرصے تک قربت کر سکتا ہے!! لوگوں میں یہ خیال بھی پا یا جا تا ہے

کہ کچھ خاص مہینوں کے حمل کے بعد بیوی سے قربت کر نا بچے کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ح ی ض اور نفاس کی حالت میں بیوی سے مجا معت حرام قرار دی گئی ہے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے! اور آپ سے ح ی ض کے بارہ میں دریافت کر تے ہیں آپ انہیں کہہ دیجئے کہ ح ی ض کی حالت میں عورتوں سے علیحدہ رہو اور ان کے پاک ہونے تک ان کے قریب مت جاؤ۔ جب وہ پاک صاف ہو جا ئیں تو پھر جہاں سے اللہ نے حکم دیا ہے وہیں سے ان کے پاس آ ؤ یقیناً سبحانہ و تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں سے محبت کر تا ہے !! نفاس والی عورت بھی اس طرح ہے کہ اس سے پاک ہونےتک جماع نہیں کیا جا ئے گا۔

اور اسی طرح حض اور عمرہ کا احرام باندھنے والی عورت سے بھی!!! اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں تم اپنی کھیتی میں جہاں سے چاہو آ ؤ۔ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا کہنا ہے: تم اپنی کھیتی میں آ ؤ سے مراد بچہ پیدا ہونے کی جگہ ہے۔ حالتِ حمل میں بیوی سے مجامعت کی جا سکتی ہے یا نہیں یا کتنے عرصے تک کی جا سکتی ہے اس کا جواب آپ کو مستند فتاویٰ جات کے ساتھ دیا جا ئے گا!! رہا سوال آٹھ یا نو ماہ کی حاملہ بیوی سے جماع کرنے کے بارہ میں کہ کیا اس وقت جماع کر نا مکروہ ہے یا کہ عورت کو کوئی نقصان ہو گا یا کہ بچہ جلد پیدا ہو جا ئے گا۔ حمل کے آخری مہینہ میں جماع کر نا بیوی کے لیے نقصان دہ ہے یا نہیں اس کے بارہ میں تجربہ کا رلیڈی ڈاکتر سے رابطہ کیا جا ئے

کیونکہ یہ عورت کی طبعیت اور حمل کے اعتبار سے مختلف ہو تا ہے اور حمل کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اثرات کے اعتبار سے ہو گا جو مختلف ہوتے ہیں اور اسے ماہر لیڈی ڈاکٹر ہی بتائے گی۔ بلکہ نبی کریم ﷺ نے تو پیٹ میں پائے جانے والے بچے کو کھیتی سے مشابہت دی ہے اور آدمی کی منی کو اس پانی سے جو اس کھیتی کو لگا یا جا تا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی کے پانی سے ماں کے پیٹ میں بچے کو فائدہ ہو تا ہے جس کا معنی یہ ہوا کہ حالت حمل میں بیوی کے ساتھ جماع کر نا اور رحم میں انزال کرنے سے فائدہ ہو تا ہے نقصان نہیں۔ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں وطی بچے کی سماعت اور بصارت میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ تو ہمیں ان باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.