”ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں یہ عمل کرو۔ ا للہ کریم نے دس راتوں کی قسم کیوں اُٹھائی؟“

نبی پاک ﷺ کا صدقہ تمام مسلمانوں کو دین و دنیا کی عزتوں عظمتوں اور شان و شوکت اور رفعتوں سے ما لا مال فر ما ئے ۔

ماہِ ذی الحجہ کے پہلے دن دنوں کا ایک خوبصورت عمل اور یہ ذی الحجہ وہ مہینہ ہے جس کی ابتدائی جو عشرے کی دس راتیں ہیں اللہ کریم نے ان دس راتوں کی قسم سورۃ الفجر کے اندر اُٹھائی ہے۔ آج ایک بہت ہی خوبصورت اور بہترین وظیفہ آپ کے سپرد کیا جا ئے گا ہمارا تو ایما ن ہے اللہ کریم دس لاکھ کیا لا محدود مانگیں تو مالکِ کریم پل بھر میں دینے کے لیے راضی ہو جا ئے گا

اور جب وہ دینے پر آ ئے تو وہ لفظ کُن فر ما تا ہے تو وہ کا م ہو جا تا ہے تو اس وجہ سے آج میں آپ کو تین باتیں بتاؤں گا ۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رحمت اللعالمین سرور ِ کائنات حضور پاک ﷺ نے فر ما یا کہ جب ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہو جا ئے تو تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے ۔ اس روایت کو اور اس جیسی دوسری روایات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے علماء نے فر ما یا کہ قربانی کرنے والے کے لیے ذی الحجہ کا چاند نظر آ نے کے بعد قربانی کرنے تک نہ سر کے بال مونڈھے نہ زیر ناف بال کاٹے ۔ بلکہ بدن کے کسی بھی حصے کے بال نہ کا ٹے ۔

تو یہ عمل ہے ۔ اب بہت اس پر اجر اور بہت اس پر ثواب جو ہے وہ اللہ کریم عطا فر ما دیتے ہیں ۔ تو یہ ذی الحجہ کا پہلا جو عشرہ ہے پہلی دس راتوں میں بڑی ہی بر کت ہے ۔ اور اگر ہر رات میں یہ تسبیح پڑھ لی جا ئے تو با فضلِ تعالیٰ رزق کا طوفان آ تا ہے۔ اللہ کریم کر م فر ماتا ہے تو ذی الحجہ کی پہلی یہ دس دن اور راتوں کا عمل ہے کوشش یہی کر یں کہ یہ عمل رات کے وقت ہی ہو اور اگر رات کے وقت آپ نہیں کر سکتے تو دن کے وقت کر لیں۔ تو انشاء اللہ اللہ کریم آپ کی ہر حاجت جا ئز حاجت کو نیک حاجت کو اپنی بارگاہِ کے اندر قبول و منظور فر ما ئیں گے اور مالکِ کریم رزق ِ

حلال سے آپ کو ما لا مال فر ما ئیں گے۔ اور اللہ کریم کے حضور جو بھی دعا مانگی جا ئے گی مالکِ کریم اس دعا کو اپنی بارگاہ کے اندر قبول و منظور فر ما ئیں گے۔ تو آپ نے کر نا کیا ہے آپ نے کر نا یہ ہے کہ آپ نے آیت الکرسی کا عمل کر نا ہے اور ان دس راتوں کا عمل کر نا ہے تا کہ آپ کی جتنی بھی حاجات ہیں وہ پوری ہو جا ئیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.