رات کو سونے سے پہلے 1 لونگ کھانے سے کیا ہو گا؟

لونگ کا استعمال ہر گھر میں ہوتا ہے لیکن کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ یہ لونگ ہماری باڈی کی کئی بیماریوں کو ختم بھی کرتا ہے

۔اس تحریر میں لونگ سے متعلق کچھ ایسے فوائد بتارہے ہیں جنہیں جان کر آپ حیران ہوجائیں گے لونگ کا استعمال صرف کھانے کا ذائقہ بڑھانے کے لئے نہیں کیا جاتا بلکہ یہ ایک دوائی ہے

اس کو اگر آپ صحیح طریقے سے استعمال کرتے ہیں تو یہ ہماری کئی بیماریوں کو جڑ سے ختم کرتی ہے اگر کسی سے پوچھا جائے کہ بیماریوں کو کیسے ٹھیک کیا جائے تو ہر کوئی کہتا ہے کہ دوائی کھا کر لیکن کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ بات صحیح ہے لیکن یہ بات بالکل غلط ہے بیماری کو ٹھیک کرنے کے لئے دوائی کی نہیں معلومات کی ضرورت ہے کیونکہ کبھی کبھار بیماری ہوتی ہی نہیں ہے وہ صر ف ہمارے لائف سٹائل کی ہی ایک دین ہوتی ہے۔

اگر ہم اپنی زندگی میں تھوڑا بہت چینچ بھی لاتے ہیں تو کئی بیماریاں تو ایسے ہی ختم ہوجاتی ہیں جیسے کہ اگر بات کریں بالوں کے جھڑنے کی آج کل ہر کوئی انسان بالوں کے جھڑ نے سے پریشان ہے کوئی انسان وٹامن ای کے کیپسولز کھا رہا ہے کوئی شیمپو تو کوئی سیرم تو کوئی بائیو ٹن کے سپلیمنٹ لے رہا ہے کیا آپ کو لگتا ہے کہ ان چیزوں سے آپ کے بالوں کا جھڑنا ٹھیک ہوسکتا ہے ظاہر ہے کچھ حد تک فائدہ تو ملے گا لیکن سو فیصد فائدہ نہیں ملے گا کیونکہ بالوں کے جھڑنے کی جو وجہ ہے

وہ تو آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کیونکہ بہت سے کیسز میں باڈی میں خون کی کمی ہونے پر بھی بال جھڑتے ہیں پھر چاہے آپ کتنا بھی وٹامن ای یا بائیو ٹین کیوں نہ کھا لیں آپ کو ان سے فائدہ ملنے والا نہیں ہے اور آپ کے بال جھڑتے ہیں رہیں گے اسی لئے آپ نے دیکھا ہوگا کہ کئی لوگ بہت سپلیمنٹ کھاتے ہیں لیکن بال جھڑتے ہی رہتے ہیں اگر بات کریں چہرے کے پمپلز کی تو یہ نکلنے پر بھی بہت سے لوگ کئی طرح کی کریمز لگاتے ہیں کچھ لوگ میڈیسنز بھی لگاتے ہیں لیکن کیا آپ کو لگتا ہے

کہ یہ میڈیسنز کھانے سے یا کریمز لگانے سے آپ کے پمپلز ٹھیک ہوجائیں گے؟کیونکہ پمپلز نکلنے کی جو وجہ ہے وہ تو ہمیں پتہ ہی نہیں ہے کیونکہ چہرے پر پمپلز ہمارے خون میں گندگی کی وجہ سے نکلتے ہیں اگر آپ خون کی گندگی کو صحیح نہیں کرتے اور باہر سے کریمز لگاتے رہتے ہیں تو آپ کے پمپلز ٹھیک نہیں ہوں گے تو اس طرح سے بیماریوں کا علاج جڑ سے کرنا ضروری ہے جڑ سے علاج تبھی ہو گا جب آپ کو بیماری کا معلوم ہوگا

اس لئے پہلے جو بھی بیماری ہو اس کے بارے معلومات اکٹھی کریں اور پھر یہ فیصلہ کریں کہ آپ کو علاج کس طرح سے کرنا ہے یہ نہیں کہ آپ کو سوئی بھی چبھی تو داکٹر کے پاس دانتوں میں درد ہوا تو ڈاکٹر کے پاس پہلے آپ خود سوچئے کہ آپ کے دانتوں میں درد ہوکیوں رہا ہے اگر آپ کو سمجھ نہ آئے تو آپ کے گھر کے جو بڑے ہیں ان سے پوچھئے کیونکہ ان کے زمانے میں نہ ہی اتنے داکٹرز تھے اور نہ ہی وہ کبھی ڈاکٹر کے پاس جاتے تھے۔الللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.