رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

 اللہ تعالیٰ کی محبت کے لیے : رسول اکرمﷺ کا ارشاد ہے : جوشخص یہ چاہتا ہے کہ وہ ایمان کا ذائقہ چکھ لے تو اسے چاہیے کہ وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کےلیے مسلمان بندے سے محبت کرے۔ قہقہہ لگانا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں  نے رسول اللہ ﷺ  کو اس طرح کھلکھلا کر کبھی ہنستے نہیں دیکھا کہ آپﷺ کے حلق کا کوا نظر آنے لگا ہو آپ ﷺ صرف مسکراتے تھے۔ والد جنت کا دروازہ ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: والد جنت میں داخلہ کا درمیانی سب سے عمدہ اور آسان دروازہ ہے۔ اب تم اس دروازے  کو نافرمانی اور برے سلوک سے ضائع کر لو یا اطاعت وفرنانبردار ی سے اس کو محفوظ کرلو۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے آدم کے بیٹے، میری عبادت کے لئے وقت نکالا کرو میں تمہارے دل کو دولت سے بھردوں گا اور تمہاری غربت کو ختم کردوں گا اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو میں تم کو مصروفیت میں رکھوں گا اور تمہاری ضرورتوں کو بھی پورا نہیں کروں گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس آدمی کا مقصد آخرت طلب کرنا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو غنی کردیتے ہیں اور اس کے تمام کاموں کے لئے اسباب مہیا کردیتے ہیں اور دنیا اس کے پاس فرمانبردار ہوکر آتی ہے اور جس آدمی کا مقصد دنیا حاصل کرنا ہو اللہ تعالیٰ اس کی غربت کو نمایاں کردیتے ہیں اور اس کے تمام کاموں کو مشکل کردیتے ہیں۔

دنیا اسے صرف اس قدر ملتی ہے جتنی اس کے مقدر میں ہے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ جارہا تھا اور آپ ﷺ اس دوران ایک نجرانی قسم کی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے تھے۔ اچانک ایک اعرابی آیا اور اس نے آپ ﷺ کی چادر مبارک زور سے کھینچی۔ میں نے دیکھا اس کی وجہ سے آپؐ کی گردن پر نشان پڑ گیا۔ پھر کہنے لگا۔ اے محمد ﷺ آپؐ کے پاس جو اللہ کا مال ہے اس میں سے مجھے دینے کا حکم دیجئے۔

رسول اکرم ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوکر ہنسے اور اس کو مال دینے کا حکم دیا۔حضرت شریح بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحرا کے متعلق دریافت کیا کہ وہاں جانا اور قیام کرنا کیسا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ان نالوں کی طرف صحرا میں جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپؐ نے صحرا جانے کا ارادہ کیا تو آپؐ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی بھیجی جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہیں کی تھی۔ پس آپؐ نے مجھے فرمایا اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! نرمی اختیار کیا کرو کیونکہ جس چیز میں نرمی ہوگی یہ اسے مزیّن بنادے گی اور جس چیز سے اسے نکال لیا جائے تو یہ اسے عیب دار بنادیتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.