”رسول پاک ﷺ نے کن چار جانوروں کی قربانی سے منع فر ما یا ہے۔“

قربانی کے لئے بہیمۃ الانعام یینو اونٹ،گائے، بھڑہ، وبکری کاہو نا شرط ہے۔

(دیکھئے سورۃالانعام:آیت:۱۴۲،۱۴۳،۱۴۴) اسی طرح قربانی کے جانوروں کا مسنہ(یین دودانتا) ہو نا شرط ہے۔ مسنہ جانور اس کو کہتے ہںل جس کے اگلے دو (دودھ کے) دانت گرگئے ہو اور اگر دوندے جانوردستا ب ہوں تو قربانی کلئے دودانتںس جانور کا انتخاب لازم ہے۔ ہاں مجبوری کی حالت مںہ (یینت مسنہ جانور مارکٹی مںن نہ مل سکے یا اس کی استطاعت نہں ہے تو) ایک سالہ دنبہ یا منڈہھا ذبح کان جاسکتا ہے۔

لکنر یاد رہے یہ صرف مجبوری کی حالت مںل ہے اور اس مںہ بھی صرف بھڑ۔ کی جنس کا جزعہ قربانی مںے کفایت کریگا، بکری وغرمہ کی جنس کا جزعہ کفایت نہںن کریگاقربانی ایک اہم عبادت اور اسلام کا شعار ہے اور یہ وہ عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کا، جاتا ہے۔اسی لےر صحت مند اور بے عبا جانور کی قربانی دییب چاہےے۔اور ان عوسب کو جاننا ہمارے لےک ضروری ہے جن سے قربانی نہں ہوتی۔جس طرح تقویٰ اور خالص رضائے الٰہی قربانی کی قبولتب کی اہم شرط ہے، اسی طرح جانور کا ان عویب سے پاک ہونابھی ضروری ہے جسے نبی کریم ﷺ نے قربانی کی قبولتب مں مانع قرار دیا ہے۔ان عورب کی تفصلو جن کی وجہ سے قربانی درست نہں ہوتی درج ذیل ہے‘‘چار قسم کے جانوروں کی قربانی جائز نہںا ہے:ایسا کا نا جانور جس کا کا نا پن ظاہر ہو ۔ایسا بماتر جس کی بما ری واضح ہو ۔ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑاپن ظاہر ہو۔انتہائی کمزور اور لاغر جانور جس کی ہڈیوں مںا گودا نہ ہو۔’’امام ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہںی: “ھذا حدیث حسن صححز” یہ حدیث حسن صححا ہے۔امام حاکم رحمہ اللہ کہتے ہںے: ھذا حدیث صحیحیہ حدیث صححل ہےامام ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہےمذکورہ عونب اور ان سے قبح ترین عورب مںم مبتلا جانور کی قربانی جائز نہںہ۔ جسےد اندھا اور ٹانگ کٹا جانوراس پر اجماع ہے

کہ اندھے جانور کی قربانی جائز نہںع ہے۔آدھا یا آدھے سے زیادہ سنگں ٹوٹے اور کان کٹے جانوروں کی قربانی جائز نہںج:رسول اللہ صلی اللہ علہی وسلم نے ان جانوروں کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جن کے سنگگ ٹوٹے اور کان پھٹے ہوئے ہوں۔ قتادہ کہتے ہںے: مںو نے سعد بن مسبا سے ( سنگا ٹوٹے اور کان پھٹے) کا تذکرہ کان تو انہوں نے کہا: سے مراد وہ جانور ہے جس کا آدھا یا آدھے سے زیادہ سنگم ٹوٹا یا کان کٹا ہو۔ یہ روایت حسن لذاتہ ہے۔علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے راوی جری بن کلب کو مجہول کہا ہے، امام ابو حاتم نے اس راوی کو ناقابل احتجاج قرار دیا ہے(الجرح والتعدیل:۲؍۵۲۷)۔ لکنے جری بن کلبے صدوق اور حسن الحدیث راوی ہے،تفصل درج ذیل ہے:امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس روایت کو صححم کہا ہےامام حاکم رحمہ اللہ نے کہا: “هذا حديث صحيح الإسنادحافظ ضا ءالمقدسی رحمہ اللہ سنے اس روایت کو صحح کہا امام ترمذی کہتے ہںے: “هذا حديث حسن صحيح”۔(سنن ترمذی:۱۵۰۴) امام ابن حبان رحمہ اللہ نے جری بن کلبس کو کتاب الثقات مں ذکر کام ہے

Sharing is caring!

Comments are closed.