زندگی میں خود کو کسی انسان کا عادی مت بنانا کیونکہ ؟ ؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: شہد کے سوا ہر میٹھی چیز میں ز ہ ر ہے۔ اور ز ہ ر کے سوا ہر کڑوی چیز میں شفاء ہے۔ کوئی تم سے روٹھ جائے اور پھر وہی تم سے ملنے کو ترسے تو اسے کبھی مت کھونا، کیونکہ وہ تم سے بہت زیادہ پیار کرتا ہے۔ زندگی میں خود کو کبھی کسی انسان کا عادی مت بنانا، کیونکہ انسان بہت خود غرض ہے۔ جب آپ کو پسند کرتا ہے۔ توآپ کی برائی بھول جاتا ہے۔ اور جب آپ سے نف رت کرتا ہے توآپ کی اچھائی بھول جاتا ہے۔ دوست کی غلطی ریت پر لکھو تاکہ پانی اسے مٹا دے اور دوست کا احساس پتھر پر لکھو تاکہ کوئی اسے مٹانہ سکے ۔ جاہل کے سامنے عقل کی بات مت کرو کیونکہ پہلے وہ بحث کرےگا اور پھر اپنی ہار دیکھ کر دشمن بن جائےگا۔ پوشیدہ اخلاق معاشرت اور میل جول سے ظا ہر ہوتا ہے۔ تحریر آدمی کی نیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اور اس کا کام اس کے ارادہ کا پتہ دیتا ہے۔

مومن کا تقویٰ اس کے قلب میں اور اس کی ظاہر توجہ زبان پر ہوتی ہے۔ تنگدستی اور تونگری انسان کے جوہروں اور اوصاف کو ظاہر کرتی ہے۔ اور مال انسان کے اخلاق کو ظا ہرکرتا ہے۔ زندگی میں قسم ، قدم ، قلم بہت سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے ۔ الفاظ ہی سب کچھ ہوتےہیں۔ دل جیت بھی دیتے ہیں۔ اور دل چیر بھی دیتے ہیں۔ ظاہر کے فساد سے وطن بگڑتا ہے۔ اور نیت کےفساد سے برکت دور ہوتی ہے۔ ایمان باعث نجات اور عافیت سے زندگی پرسکون بسر ہوتی ہے۔ گمراہی بری چیز ہے۔ اور ضرورت کے وقت بات نہ کرنا عاجزی ہے۔ جس کام سے عاجز ہونے کا اندیشہ لاحق ہو، اس کام کو ہاتھ نہ لگاؤ۔ عاجزوں کی مدد کرنا ، اللہ تعالیٰ کے ع ذاب سے تمہارے لیے جائے پناہ گاہ ہوگا۔ دنیا تو ایک خواب ہے جس پر مغرور ہونا باعث ندامت ہے۔ جب دل کی آنکھیں اندھی ہوں تو ظاہر ی آنکھوں کی بینائی ہرگز فائدہ مند نہیں ہوسکتی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: کہ جس شخص کو پانچ نعمتیں مل گئیں، وہ سمجھ لے کہ مجھے دنیا کی سب نعمتیں مل گئیں۔ شکر کرنے والی زبان، ذکر کرنے والا دل ، نیک بیوی ، سہولت کی روزی ، مشقت اٹھانے والا بدن۔ دکھ میں کبھی پچھتاوے کے آنسوؤں نا بہاؤ کیونکہ تم وہ خوش نصیب ہو جس کو اللہ تعالیٰ نےآزمائش کے قابل سمجھا ہے۔ کسی کی نعمت کی ناشکری نہ کرو۔ کیونکہ حقیقت میں ناشکرا پن  سب سے بڑا اور گھٹیا قسم کا کفر ہے۔ عادت پر غالب آنا کمال کی فضیلت ہے۔ اپنے نفسوں کا اعمال کے ذریعے محاسبہ کرو ۔ ان فرائض کی ادائیگی کا مطالبہ کرو، انہیں بقاکو فناء کے مقام سے حاصل کرنے کےلیے کہو دوبارہ اٹھائے جانےسے پہلے اپنے آ پ کو ٹھیک کرلو، اور اچھی طرح تیار ی کرلو۔ جو بھی کسی مومن کی کوئی مشکل یاغم برطرف کرے ، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کےدل سے غم برطرف کرے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.