”عصر کی نماز کے بعد صرف 1 سورۃ پڑھیں اور رات میں ہ مب س ت ری کرلیں انشاء اللہ گود بھر جائے گی۔“

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بلاشبہ ایک عورت کو حمل سے لیکر رضاعت تک مشکل مراحل سے گزرنے کا بہت زیادہ اجر و ثواب ملتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں (نیکی کا) تاکیدی حکم فرمایا، جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف کی حالت میں (اپنے پیٹ میں) برداشت کرتی رہی اور جس کا دودھ چھوٹنا بھی دو سال میں ہے (اسے یہ حکم دیا) کہ تو میرا (بھی) شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی۔

(تجھے) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں بچے کی پیدائش اور رضاعت کی تکالیف بیان کرتے ہوئے اپنے شکر کے ساتھ والدین کا بھی شکر ادا کرنے کا حکم فرمایا ہے جو والدین کے لئے انتہائی حوصلہ افزا بات ہے۔ اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے والدہ کے حق کو والد کے حق پر اسی بنا پر ترجیح دی ہے کہ وہ زیادہ تکالیف برداشت کرتی ہے۔

ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا: یا رسول اللہ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری والدہ۔ عرض کی کہ پھر کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری والدہ۔ عرض کی کہ پھر کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری والدہ۔ عرض کی کہ پھر کون ہے؟

فرمایا کہ تمہارا والد ہے۔اس حدیث مبارکہ کی شرح میں علامہ عینی فرماتے ہیں:ماں کا حق باپ کے حق پر مقدم ہے،کیونکہ حمل، وضع حمل اور دودھ پلانے کی مشقت اورصعوبت صرف ماں اٹھاتی ہے باپ نہیں اٹھاتا،اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کے تین درجہ کے بعد باپ کا ذکر فرمایا، اس پر علماء کا اجماع ہے کہ نیکی کرنےمیں اور اطاعت کرنے میں ماں کا مرتبہ اور حق باپ سے زیادہ ہے۔

بچے کی پیدائش کے وقت ہونے والی تکلیف پر عورت کے لیے باعثِ اجر ہے اور دورانِ زچگی فوت ہونے والی عورت کو شہید قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت عتیک بن حارث بن عتیک سے روایت ہے کہ ان کے چچا جان حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عبد اللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو انہیں بیہوش پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں زور سے آواز دی

لیکن انہوں نے جواب نہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْن کہتے ہوئے فرمایا: اے ابو الربیع! ہم تمہارے بارے میں مغلوب ہوگئے ہیں۔ چنانچہ عورتیں چیخنے اور رونے لگیں اور حضرت ابن عتیک انہیں چپ کراتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں چھوڑو۔ جب واجب ہوجائے اس وقت کوئی رونے والی نہ روئے۔

لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! واجب ہونا کیا ہے؟ فرمایا کہ موت۔ ان کی صاحبزادی نے کہا خدا کی قسم ہم تو یہ امید رکھتے تھے کہ آپ شہید ہوں گے کیونکہ آپ جہاد کی تیاری کرچکے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نیت کے مطابق ان کو ثواب دے دیا ہے اور تم شہادت کس چیز کو شمار کرتے ہو؟

عرض کی کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے سوا سات قسم کی شہادت اور ہے۔ طاعون سے مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، ذات الجنب سے مرنے والا شہید ہے، جل کر مر جانے والا شہید ہے، دب کر مرنے والا شہید ہے اور بچے (کی پیدائش) کے باعث مرنے والی عورت شہید ہے۔اور ایک روایت میں ہے۔

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دریافت کیا: تم لوگ اپنے درمیان شہید کسے سمجھتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ جو راہ خدا میں لڑے اور مارا جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے، اﷲ تعالیٰ کے راستے میں مارا جانے والا بھی شہید ہے، طاعون کی بیماری کی بیماری میں، پیٹ کی بیماری میں اور بچے (کی پیدائش) یعنی نفاس کی حالت میں مرنے والی عورت بھی شہید ہے۔

یہ وظیفہ ان لوگوں کے لئے ہے کہ جو کہ اولاد کی نعمت سے محروم ہیں اولاد اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے اور یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتاہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے دونوں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے یہ اللہ رب العزت کی دین ہے اور اللہ رب العزت جسے چاہتے ہیں عطا کرتے ہیں۔

اور جسے چاہتے ہیں روک لیتے ہیں اور ہمیں بحثیت مسلمان ہمارایہ ایمان اور یقین ہونا چاہئے کہ اللہ نے جتنا بھی دیا ہے جب بھی دیا ہے اللہ رب العزت نے ہمارے فائدے کے لئے ہی دیا ہے ہوسکتا ہے کہ زیادہ ہو ہمارے پاس لیکن وہ ہمارے لئے نقصان کا باعث ہو اس لئے اللہ رب العزت جو بھی عطا کرے اس پر صبر اور شکر کرنا یہ بحثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آقائے کریم ﷺ نے ہمیں اللہ رب العزت سے مانگنے کا طریقہ سکھایا ہے ۔

دعا کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ دعا تقدیر کے لکھے کو بدل دیتی ہے اب اللہ رب العزت نے جو ہماری قسمت میں لکھا ہے وہ ہمیں مل کر ہی رہنا ہے لیکن ہم نیک اعمال کرنے والے ہوں اللہ کے سامنے رونے والے ہوں اللہ سے ہر حال میں ہر وقت میں مانگنے والے ہوں تو اللہ رب العزت پھر ہمیں بڑھا چڑھا کر عطافرمائیں گے اللہ رب العزت اگر کسی شخص کو عطاکرنا چاہیں تو دنیا کی کوئی طاقت مل کر اس سے چھین نہیں سکتی اور اگر اللہ رب العزت اس سے چھیننا چاہیں تو دنیا کی کوئی طاقت اسے کچھ عطا نہیں کر سکتی ۔

میرے ایسے تمام بہنیں اور تمام بھائی جو کہ بے اولاد ہیں اور اولاد کے لئے کوشاں ہیں بہت زیادہ علاج معالجہ بھی کروارہے ہیں علاج معالجہ ٹیسٹ وغیرہ کروانے کے بعد انہیں یہ پتہ چل چکا ہے کہ انہیں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اس کے ساتھ بہت وظائف بھی کر چکے ہیں لیکن اس سے بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہورہا تو ان کے لئے یہ ایک ایسا خاص قرآنی عمل ہے

کہ جس کے کرنے کی برکت سے انشاء اللہ میرے اللہ آپ کو اپنے خزانوں سے اولاد کی نعمت عطا فرمائیں گے یہ نہایت ہی مجرب اور آزمودہ عمل ہے اور اس کے کرنے کی اجازت عام ہے ۔سب سے پہلی اور سب سے بنیادی چیز یہ ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا ہوگا ہمیں کوشش کرنی ہوگی کہ دن کے چوبیس گھنٹے جو ہمیں ملتے ہیں۔

ان میں کوشش کریں کہ اللہ کی کسی قسم کی کوئی نافرمانی نہ ہو بلکہ آقائے کریم ﷺ کے بتائے گئے طریقوں کے مطابق ہمارا ایک ایک پل ایک ایک منٹ گزرے اس کے ساتھ ساتھ فرائض کی ادائیگی کی پوری پوری کوشش کی جائے نماز کا اہتمام خصوصی طورپر کیاجائے۔عمل یہ کرنا ہے کہ نماز عصر ادا کرنی ہے نماز عصر ادا کرنے کے بعد آ پ نے وہیں جائے نماز پر بیٹھ کر بنا کسی سے بات کئے

بنا اپنی جگہ سے اُٹھے اور بنا کسی سے بات کئے اول آپ نے گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی پڑھ لیجئے اور پھر قرآن پاک پارہ نمبر 30 کی سورہ الکوثر کو ایک سو ایک مرتبہ پڑھ لیجئے اور پھر گیارہ مرتبہ آخر میں پھر درود ابراہیمی پڑھ لیجئے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں رو رو کر گڑگڑا کر دعا کیجئے ۔انشاء اللہ آپ کا مسئلہ حل ہوجائے گا اور جلد نتیجہ ملے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.