”غصہ میں دی گئی بددُعا“

غصہ ایک شیطانی وسوسہ ہے اور یہ وسوسہ انسان سے بہت کچھ چھین لیتا ہے۔ اور اتنا کچھ بگڑ جاتا ہے

پھر اس سے کچھ سنوارا نہیں جاسکتا۔ اس لیے اسلام نے غصہ کو قابو کرنا سکھایا ہے۔ غصہ کے بارے میں روایت آتی ہےکہ حضوراکرمﷺ نے فرمایا : “بہادر وہ نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے بلکہ بہادر وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے”۔

اسی طرح ہمارے رسول نے ایک صحابی کو نصیحت فرمائی۔ ایک صحابہ نے عرض کیا کہ آپؐ مجھے نصیحت کرو۔ آپؐ نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو ۔ صحابہ نے کئی بار یہی سوال دہرایا تو آپؐ ہر بار یہی جواب دیاکہ غصہ نہ کیا کرو۔ اور ساتھ ساتھ غصہ کا علاج بھی بتایا۔ ایک روایت میں آیا کہ آپﷺ نے فرمایا غصہ شیطان سے ہے

اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا۔ اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے۔ تو جس کو غصہ آئے تو اس کو وضو کر لینا چاہیے۔ اسی طرح ایک روایت میں آیا کہ آپﷺ نے فرما یا کہ جب تمہیں غصہ آئے اور کھڑا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ بیٹھ جائے۔ اگر اس حال میں غصہ دفع ہوجائےتو ٹھیک ہے

لیکن نہ ختم ہوتو لیٹ جائے۔ لہٰذا غصہ کو پینا بہت بڑا اجر ہے۔ انسان پر شیطانی خواہشات بھی آجاتی ہیں۔ کیونکہ نفسانی خواہش شیطان کی طرف سے ترغیب ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اپنےغصہ کی وجہ سے اپنی اولاد یا کسی بھی کو کوسنا شروع کر دیتے ہیں یا بددعا دے دیتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے۔ کہ پور ے دن میں ایک وقت ایسا آتا ہےکسی دعا مانگ لی تو وہ دعا قبول ہوجاتی ہے
اگر خدانخواستہ کسی اس وقت بد دعا دے دی چاہے وہ ناجائز ہی کیوں نہ ہووہ قبول ہو جاتی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ ماں باپ اور محرم رشتہ داروں کی بد دعا قبول نہیں ہوتی۔ جب انسان غصہ زیادہ کرتا ہے تو اس کو باطنی بیماریاں لگنی شروع ہو جاتی ہیں۔ مثلاً بلڈپریشر، پریشانی اور خاص قسم کا چڑچڑاپن شروع ہوجاتاہے۔

یہی بلڈ پریشر بڑھنا شروع ہوتا ہے تو اس سے اور بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ اور یہ سب غصہ ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پھر روحانی بیماریاں لگ جاتی ہیں۔ انسان میں تکبر پیدا ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ غصہ ہمیشہ شیطان کی وجہ سے ہوتاہے۔ جبکہ تکبر اللہ کا وصف ہے۔اور انسان بھی تکبر میں آکر اللہ کی طرح تکبر کرتا ہے۔ صرف میری مرضی ہونی چاہیے اور میری مرضی کے خلاف کچھ نہیں ہونا چاہیے۔

جب یہ تصور بیٹھ جاتا ہے تو وہ غافل ہو جاتاہے۔ اور غفلت سب سے بڑا مرض ہے۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ‘غافلین’ کا لفظ فرمایاہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ بیدار رہے ایسی حالت میں کوئی گناہ سرزد ہوجائے مگریہ معلوم ہو کہ اللہ دیکھ رہا ہے اور کہہ رہا ہو اے اللہ میں کیا کروں۔ میں اس گنا ہ کی دلدل میں پھنسا جارہاہوں تو اس حالت میں اللہ کو یاد کر رہاہے۔ تو ایسی حالت میں اللہ اسکو گناہ سے نکال دیں گے۔

لیکن غافل ہوگیا اور غفلت کی حالت میں بھی نماز پڑھ رہا ہے تو وہ نماز اللہ کے ہاں قبول نہیں ہے۔ جو نمازیں منہ پر ماری جائیں گی۔ یہی وہی نمازیں تو ہیں۔ تو فرما یا : جس اللہ کے سامنے کھڑے ہو تو اس اللہ کو یاد نہیں کیااور اللہ کے غیر سبب تو یاد ہیں۔ لہٰذا ایسی نماز میلے کپڑے میں لپیٹ کر منہ پر مار دی جاتی ہے۔ اور اللہ کہتا ہے ایسی غفلت والی نماز مجھے نہیں چاہیے۔ہرانسان کو غفلت سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ یہی غفلت ہی انسان کو گمراہ کرتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.