”مرد کےجسم کوتین چیزیں طاقت دیتی ہیں“

تقدیر ٹھرائے ہوئے اندازے پر غالب آجاتی ہے۔ یہاں تک کہ چارہ سازی ہی تباہی اورآفت بن جاتی ہے۔

بردباری اورصبر دونوں کا ہمیشہ ہمیشہ کا ساتھ ہے ۔ یعنی دونوں بلند حتمی کا نتیجہ ہے۔ کمزور کا یہی زور چلتا ہے۔ کہ وہ پیٹھ پیچھے برائی کرسکے۔ بہت سے لوگ اس وجہ سے فتنہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ دنیا ایک دوسری منزل کےلیے پیدا کی گئی ہے نہ کہ اپنے ادوام کےلیے۔

آنکھ عقب کےلیے تسمہ ہے۔ توحید یہ ہے کہ اسے اپنے وہم وتصور کا پابند نہ بناؤ اور عدل یہ ہے کہ اس پر الزامات نہ لگاؤ۔ حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں جس طرح جہالت کے ساتھ بات کرنے میں کوئی بھلائی نہیں۔ ایک دفعہ کسی نے بزرگ سے پوچھا کہ اگر آپ سفید بالوں کو خصاب سے بدل دیتے ہیں۔ تو بہتر نہیں ہوتا توآپ نے فرمایا: کہ خصاب زینت ہیں ۔ اور ہم لوگ سوگوار ہیں۔ قناعت ایک ایسا سرمایا ہے۔ جو بالکل ختم ہونے میں نہیں آتا۔

سب سے بھاری گنا وہ ہے جسے مرتکب ہونے والا سبک سمجھے۔ اللہ نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ سکھانے میں دریغ نہ کرے۔ بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زہمت اٹھانا پڑے۔ جب کوئی مومن اپنی بھائی سے احتشام کرے تو یہ اس سے جدائی کا سبب ہوگا۔ بہت سے روزے دار ایسے ہیں۔

جنہیں روزے کا ثمرہ بھوک پیاس کے سواکچھ نہیں ملتا۔ مر د کے جسم کو تین چیزیں طاقت دیتی ہیں۔ گ وشت کھانا، خوشبو سونگھنا، غسل کرنا۔ مصیبت کےا ندازہ پر اللہ کی طرف سے صبر کی ہمت حاصل ہوتی ہے۔ جوشخص مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارے اس کاعمل اقارت جاتا ہے۔ جو شخص تمہاری رائے کا خواہش مند نہ ہو اسے راستہ مت دکھا ؤ نہ ہی تمہاری نصیحت اسے فائدہ دے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.