میری 31 سال عمر تھی 8سال شادی کو ہوگئے تھے صرف 1 قرآنی وظیفہ کیا اللہ تعالیٰ نے بیٹا عطا کیا

آج کا وظیفہ ایک مجرب وظیفہ ہے جو کہ بے اولاد جوڑوں کے لیے ہے۔ بحثیت مسلمان ہمارا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہونا چاہیے

کہ اللہ ہی ہمیں بیٹا یا بیٹی عطا کر نے والا ہے۔ بچوں کی پیدائش کا تعلق اللہ تعالیٰ کی مشیعیت ہے اسی لیے اولاد کی پیدائش کا اختیا ر مکمل اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ لیکن دنیا عالم اسبا ب ہے۔

اسی لیے اللہ پاک نے اپنی ایسی نعمتیں عطا کی ہیں جس کے بیش بہا فوائد اللہ نے خود رہنمائی فرمائی۔حضرت زکریاؑ کی سو سال عمراور بے اولاد، اور بیوی کی عمر نوے سال اور بانجھ۔دونوں بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ لیکن اولاد کی تمنا ء دل میں موجو دتھی۔ حضرت زکریا ؑ نے اللہ سے وارث کی دعا کی۔ اللہ رب العز ت نے آپ کو ایک فرزند عطا کیا۔ اسی طرح ہرشادی شدہ زن ومرد کو اولاد کی خواہش ہوتی ہے۔اور یہ ایک فطرتی عمل ہے۔ جہاں پر لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوں وہاں پر اولاد کی تمناء بڑھ جاتی ہے۔ بے اولادی کے لیے انتہائی لاجواب وظیفہ ہے۔

کسی کو ایک ماہ، کسی کو پانچ ماہ اور کسی کو سات ماہ اس وظیفہ کا فائدہ ضرور ہوگا۔ فائدہ نہ ہو تو یہ ممکن نہیں ہے۔ بے اولادی کے مریض ایسے ہیں جو بےاولادی سے مایوس ہوچکے ہیں۔جنہوں نے علاج کراکے تھکا دیا۔ان کو حیرت انگیز مجرب وظیفہ کا فائدہ ہوگا۔ میاں بیوی جمعتہ المبارک کے دن اول و آخر گیارہ گیارہ بار درود شریف کے ساتھ گیارہ مرتبہ سورت الرحمن پڑھیں۔ اور جن عورتوں کے ہاں اولاد نرینہ نہ ہو ان کو چاہیے کہ صبح کی نماز کے بعد سورت مریم کو روزانہ پڑھا کریں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی شان میں اس طرح سے دعا کرے کہ اے خالق و مالک! میں اولاد صالح کی تیر ی بارگاہ سے طلب گار ہوں۔تونے اللہ کی بندی حضرت مریم کو اولا دسے نوازااور مجھے بھی اپنے حضور اقدسﷺ کے صدقے مجھے پر بھی اپنی کرم نوازی فرما۔

اولاد نرینہ صالح عطاء فرما۔ انشاءاللہ کامیابی ہوگی۔ قرآن کریم حصول وبرکا ت کا ذریعہ ہے۔ اس کی آیت کو حصول وطلب کے لیے پڑھا جاسکتاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام نمازوں کا خیال رکھیں۔ اور گناہوں کے کاموں سے اجتنا ب برتا جائے۔ انشاءاللہ وظیفے سے سو فیصد فائدہ ہوگا۔اور یہ عمل نہایت ہی کمال کا عمل ہے۔ اس عمل کی بہت تاثیر ہے۔ اولاد کی نعمت سےمحرومی کا کچھ بھی سبب ہو تو ہر حالت میں اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ چاہیے۔اوراللہ کے فیصلوں پر مکمل صبر کریں۔ کیونکہ کچھ بندوں کو اولاد معذور اولاد کی وجہ سے آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔ اب وہ انتہائی تنگی کی زندگی میں ہے۔ بالکل ایسے والدین کو دیکھے جو اپنی نافرمان اولاد کی وجہ سے پریشان ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے بندہءمومن کے لیے وہی پسند کرتا ہے جو اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.