”گردوں میں خرابی کا اشارہ دینے والی چودہ نشانیاں۔“

گردے کی سوزش ایک انتہائی تکلیف دہ بیماری ہے،اس کے مختلف اسباب ہیں اگر اسے بغیر علاج کے چھوڑ دیا جائے

تو بعض اوقات گردہ ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔گردے میں انفیکشن عام طور پر بیکٹیریا کے داخل ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے، جو اکثر پیشاب کی نالی اور مثانے سے اس میں منتقل ہوتا ہے۔سیدیتی میں شائع ایک مضمون کے مطابق گردوں میں انفیکشن ایک وقت میں صرف ایک گردے یا دونوں گردوں کو متاثر کرسکتاہے،

لیکن پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے گردوں کے انفیکشن کا جلدی علاج کرنا بہت ضروری ہے۔ پیشاب کی نالی اور مثانے کے ذریعے گردوں میں داخل ہونے والے بیکٹیریا کی وجہ سے گردے میں انفیکشن ہوتا ہے۔ بیکٹیریا کی سب سے عام قسم ای کولی ہے۔ گردوں کی سوزش بہت سخت درد کا سبب بنتی ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کوگردے کا انفیکشن ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے

ایسا ہی پیشاب کی نالیوں کے مریض بھی خطرے میں رہتے ہیں، جبکہ مردوں کے مقابلے میں خواتین کو گردوں کی بیماری ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اگر آپ میں مندرجہ ذیل علامات پائی جارہی ہیں تو گردوں کے لیے فکرمند ہونے کی ضرورت ہےدرجہ حرارت میں اضافہ ہونا :گردے کی سوزش کے ساتھ درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے اس کی عمومی وجہ بیکٹریا کا گردے میں داخل ہوجانا ہوتی ہے۔

کمر میں درد: گردوں میں سوزش کمر میں شدید درد کا سبب بنتی ہے، جسے گردوں کی کالک کہا جاتا ہے، عام طور پر درد کی شدت کو کم کرنے کے لیے پین کلر دوا لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔جلن کا احساس: گردوں کی سوزش کے نتیجے میں پیشاب کے دوران شدید جلن ہوتی ہے۔بار بار پیشاب کرنا: انفیکشن کے نتیجے میں مریض جلنے کے احساس کے ساتھ معمول سے کئی گنا زیادہ پیشاب کرنے کی خواہش کو محسوس کرتا ہے۔

بے سکونی محسوس ہونا: گردوں کی سوزش متلی اور الٹی کا سبب بنتی ہے۔ سوزش کے بعد گردوں کی خرابی: اگر سوزش طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو گردے ناکام ہو سکتے ہیں اور مناسب طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔علاج:گردوں کے انفیکشن کا علاج اینٹی بائیوٹکس کے ذریعے پیشاب کے ٹیسٹ کے نتائج پر ہوتا ہے،

جس کے ذریعے انفیکشن کا سبب اور بیکٹیریا کے بارے میں معلوم ہوتا ہے۔مرض کی شدت کی صورت میں مریض کو ہسپتال میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔ جب گردے اپنے افعال درست طریقے سے سرانجام نہیں دے پاتے تو اس کے نتیجے میں زہریلا مواد جسم سے پیشاب کے راستے خارج نہیں ہوپاتا اور خون میں موجود رہتا ہے، اس مواد کی سطح بڑھنے سے سونا مشکل ہوجاتا ہے

اور بے خوابی کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی طرح گردوں کے مریضوں میں نیند کے دوران سانس لینے میں مشکل کا عارضہ بھی سامنے آسکتا ہے اور اگر کوئی فرد اچانک خراٹے لینے لگے تو اسے ڈاکٹر سے رجوع کرنا جانا چاہیے۔ اگر گردے درست کام کررہے ہوں تو وہ جسم میں وٹامن ڈی کو ہڈیوں کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ ایک ہارمون ای پی او بنانے کا کام بھی کرتے ہیں

Sharing is caring!

Comments are closed.