”گرمیوں کی آمد ہے خود کو بیماریوں سے محفوظ رکھیں“

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں سوائے چند علاقوں کے خوب گرمی پڑتی ہے اور اس کی وجہ سے کافی اموات بھی ہوتی ہے ۔

دراصل گرمی کی وجہ سے سب سے پہلے ہماری جلد متاثر ہوتی ہے جس کے بعد قوت مدافعت کمزور پڑنے لگ جاتی ہے اور آہستہ آہستہ انسان کو کئی ساری بیماری لگ جاتی ہے ۔ یوں تو بہت ساری احتیاطی تدابیر ہیں جن کے ذریعہ آپ خود کو گرمی کے نقصانات سے بچا سکتے ہیں ۔ لیکن آج ہم آپ کو مزید کچھ ایسی تدابیر بتائیں گے جس کے ذرعیہ گرمی آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑؑ سکے گی

گیسٹرو اینٹریٹِس پیٹ کی بیماریوں میں ابھرنے والی علامات میں سے ایک ہے۔ یہ پیٹ اور آنتوں میں ہونے والا ایک انفیکشن ہے۔ اس میں قے، دست اور پیٹ میں درد کی شکایت ہوتی ہے۔ اگر یہ ذیادہ بڑھ جائے تو ڈائیریا یعنی اسہال کی بیماری میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

گرمی کے موسم میں یرقان کی بیماری کافی عام ہے۔ یہ جگر میں پیدا ہونے والے انفیکشن سے ہوتی ہے۔ اس میں ظاہر ہونے والی علامات ذرد رنگت اور ذرد آنکھیں، متلی اور منہ کے ذائقہ میں کڑواہٹ ہیں۔ جگر پر ہیپاٹائٹس اے کے حملے سے پت کی ذیادتی ہوجاتی ہے۔ اس بیماری کی عام وجہ گندا پانی یا ناقص غذا ہوتی ہے۔

ٹائیفائیڈ اونچے درجے کا بخار ہوتا ہے جس میں جسمانی تھکن اور کمزوری مرکزی علامات ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ پیٹ میں درد، سردرد، دست اور الٹی بھی شامل ہیں۔ اس کی شروعات بھی گندے پانی کی وجہ سے ہوتی ہے اور گرمی کے موسم میں یہ بیماری بہت عام ہے۔

فوڈ پوائیزنِنگ خراب غذا کھانے سے ہوتی ہے۔ یہ ناقص غذا کھانے کے چھ سے آٹھ گھنٹوں کے درمیان نمودار ہونے والا انفیکشن ہے۔

ان عام بیماریوں سے بچنے کے لئے چند ٹپس

ذیادہ سے ذیادہ پانی پینے سے جسم کی 90 فیصد بیماریوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ جسم میں موجود ریشہ پانی کو آنتوں تک صحیح طرح پہنچاتا ہے اور آتتوں میں نمی برقرار رہتی ہے۔ اس طرح آنتوں کی خشکی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے حفاظت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پانی جسم کی توانائی بحال رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
غذا میں ریشہ دار اشیاء اور فائبر شامل کرنے سے نظام ہضم بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ پھل، سبزی اور اناج ہضم کرنے میں آسان ہوتے ہیں اور معدے کو ذیادہ مشقت نہیں کرنی پڑتی۔ فائبر قبض کی شکایت بھی دور کرتا ہے۔
جیسا کہ گرمی جسم سے پانی نچوڑ لیتی ہے، اس موسم میں چکنائی سے بھرپور اجزاء کھانے سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ غذا میں موجود چکنائی نہ صرف ہضم کرنے میں مشکل ہوتی ہے بلکہ پانی کی کمی اسے ناممکن بنا دیتی ہے۔ نتیجے میں موٹاپے اور کالیسٹرول جیسے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

کیفین یا کافی تاثیر میں گرم ہوتی ہے۔ اس موسم میں کافی کی مقدار کو کم کردیں۔ بہتر یہ ہے کہ بلکل ختم کردیں۔ گرمی میں کافی کا استعمال پیٹ کے السر اور معدے میں تیزابیت پیدا کرتا ہے۔

گھر سے باہر کھانا کھانے سے پرہیز کریں۔ صرف گھر کا بنا صاف کھانا کھائیں۔
یہ کچھ احتیاطی تدابیر ہیں لیکن اگر مسئلہ زیادہ ہو تو فورا ڈاکٹر کے پاس جائے اور پانی کا خوب استعمال کرے کیونکہ اس سے جسم کا ٹمپریچر قابو می رہتا ہے اور جلد میں بھی نمی رہتی ہے جس کی وجہ سے گرمی کا زور کم ہو جاتا ہے لیکن اگر کوئی ایسا مسئلہ پیش آجائے تو پہلی فرصت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں

Sharing is caring!

Comments are closed.