”یہ 2 قدرتی چیزیں آپ کے جسم سے وہ تمام بیکٹیریا“

آپ کے مشاہدے میں یہ بات اکثر آئی ہوگی۔ کہ انتہائی قیمتی اور زود اثر ادویات جو کہ موٹاپے کےلیے استعمال کی جاتی ہیں۔

ان کا اثر بھی وقتی ہوتا ہے۔ اور وقت گزرنے کےساتھ ساتھ وہی بندہ جو ان دوائیوں سے سمارٹ ہوتا ہے کچھ عرصہ تو دبلا پتلارہتا ہے۔ لیکن پھر پہلے سے زیادہ موٹا تازہ اور بڑی سی توند کا مالک بن جاتا ہے۔ا س کی وجہ کیا ہے؟ کیا دوائی کے بنانےکے اندر کمپنی یا ماہرین نے کوئی ایسی چیز رکھی ہوتی ہے۔

جو انسان کو وقتی اسمارٹ کرنے کے ساتھ اس دوائی کا مستقل طور پر عادی بھی بنا دیتی ہے۔ آج آپ کو اسی کے بارے میں بتائیں گے ۔ کہ انسان کے موٹاپے کی بڑی اور اصل وجہ کیا ہے؟ اور اس سے چھٹکارا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے؟ اور آیا یہ چھٹکار ا مستقل طور بنیادوں پر پانا ممکن ہے یا نہیں ہے؟ اگر ہمیشہ کےلیے بڑی توند سے نجات مل سکتی ہے۔ اس کے لیے ہمیں کونسے ضوابط اور اصول اور ادویات درکا ر ہوں گے۔

موٹاپے کی بیماری میں مبتلا لوگ سب سے زیادہ اس بات پر حیران ہوتے ہیں ۔ کہ کامیابی سے وزن کم کرنے کےبعد ان کا موٹاپا واپس کیوں آجاتا ہے؟ اب سائنسدانوں نے اس کی وجہ اور علاج دریافت کرلیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ باربار وزن واپس آنے کا سبب آنتوں کے بیکٹیریاز ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص موٹاپہ کم کرنے کے لیے ڈائیٹنگ کرتا ہے۔ تو عارضی طور پر وہ اسمارٹ ہوجاتا ہے۔ لیکن جب وہ اصل خوراک کی طرف آتا ہے۔

اور بیکٹیریاز کو چکنائی والی خوراک دوبارہ ملنا شروع ہوتی ہے تو وہ پہلے سے زیادہ سرگرم ہوجاتے ہیں۔ جس کا نتیجے میں مذکورہ شخص کا وزن تیزی کےساتھ واپس آجاتا ہے۔ ان بیکٹیریاز کا علاج انسان کے پیٹ میں موجود فلائیوا نائیڈز ہیں۔ فلائیوا نائیڈزاینٹی آکسیڈینٹس سرگرمی سے مالا مال ہیں۔ اور آپ کے جسم کو روزمرہ کے ٹاکسنز سے دور رکھنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ آپ کے کھانے میں مزید فلائیونائیڈز کو شامل کرنا آپ کے جسم کو صحتمندر ہنے میں مدد فراہم کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔

اور آپ کی صحت کو درپیش خطرات کو ممکنہ طور پر کم کرتا ہے۔ ہم اور ہمارے ماہرین بھی اس بات کا دھیا ن بالکل نہیں رکھتے کہ بیماری کے اندر وہ بیماری کی جڑ کاٹنے کے بجائے اس کی شاخیں کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی درخت کو ختم کرنا ہے۔ تو اس کی جڑوں کا کاٹنا پڑےگا۔ جبکہ ہم ایسا کرنے کے بجائے اس کی شاخوں کو کاٹتے رہتے ہیں ۔ اب یہ موٹاپا بذات خود ایک بیماری نہیں ہے۔ بلکہ بیماری تو وہ بیکٹیریاز ہیں ۔جو انسان کےجسم کے اندر موجود ہیں۔

جب تک یہ رہیں گے تب تک ان کی تعداد میں اضافہ ہوتارہےگا۔ اور یہ اسمارٹ نہیں ہونے دیں گے ۔ اس کا حل ڈھونڈتے ہوئے طبی ماہرین کا کہنا تھا۔ کہ اجوائن اور اور بابونا میں وافر مقدار میں فلائیوانائیڈز موجود ہوتے ہیں۔ لہٰذا اجوائن اور بابونا کا کثیر مقدار میں استعمال ان کے وزن کو قابو میں رکھ سکتا ہے۔ا ورپیٹ کے درکا ر فلائیوانائیڈز کی تعداد میں ممکنہ حد تک اضافہ کے ساتھ کمزور فلائیونائیڈز کی صحت اور افزائش کے لیے بھی مجر ب ہے۔ اس کے ساتھ اگر دہی کو بھی شامل کرلیاجا ئے۔

تو یہ نو ر اعلیٰ نور ہوگا۔ یہ ایک تیز اور پرذائقہ علاج بن جائےگا۔ چونکہ دہی فلائیوانائیڈ ز کی طاقت کےلیے ایک آزمودہ غذا ہے۔ اس کے لیے آپ دہی کے اندر بابونا اور اجوائن کے پتے ڈال دیں۔ اور اس کا رائتہ بنا کر کھانے کےساتھ یا ویسے ہی استعمال کریں۔ اور بیان کردہ تینوں اشیاء نظام انہضام کےلیے انتہائی مفید ہیں۔ اور یہ جگر کے افعال کے لیے بھی بہت مناسب ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.