”آنکھوں میں سرمہ لگانے والی عورتیں“

سرمہ لگانا ہمارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نہایت ہی پیاری پیاری اور میٹھی میٹھی سنت ہے ۔

سر کا ر نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب سونے لگتے تو اپنی مبارک آنکھوں میں سرمہ لگایاکرتے ۔ لہٰذاہمیں بھی سو نے سے پہلے اتباعِ سنت کی نیت سے اپنی آنکھوں میں سرمہ لگانا چاہیے ۔ اس سے ہمیں سرمہ لگانے کی سنت کابھی ثواب حاصل ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ اس کے دنیوی فوائد بھی حاصل ہوں گے ۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سرمہ سوتے وقت استعمال فرماتے تھے چنانچہ حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھُمَافرماتے ہیں کہ تا جدارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سو نے سے پہلے ہر آنکھ میں سرمہ اثمد کی تین سلائیاں لگایا کرتے تھے ۔

(جامع الترمذی ، کتاب اللباس،باب ماجاء فی الاکتحال ، الحدیث۱۷۶۳،ج۳،ص۲۹۴) حدیث بالامیں یہ بھی ارشاد فرمایاگیا ہے کہ ہمارے پیارے سر کار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دونوں مقد س آنکھوں میں سرمہ کی تین تین سلائیاں استعمال فرماتے تھے اور اکثر اسی پر عمل تھا ۔ تاہم بعض روایات میں سیدھی آنکھ مبارک میں تین سلائیاں اور بائیں میں دو کا بھی ذکر آیاہے اور ’’ شمائل رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں اسی طر ح بیان کیا گیا ہے کہ سر کارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہرآنکھ مبارک میں دودو سلائیاں سرمہ کی ڈالتے اور ایک سلائی کو دو نو ں مبارک آنکھوں میں لگاتے۔(وسائل الوصول الی شمائل الرسول ، الفصل الثانی فی صفۃبصرہ۔۔۔۔الخ،ص۷۷)انسان کی زندگی میں آنکھوں اور بینائی کا اہم کردار ہوتا ہے، جب کہ آنکھیں ہی وہ ذریعہ ہیں، جس سے کرہ ارض کو دیکھا جاسکتا ہے۔

خوبصورت اور پرکشش آنکھیں شخصیت کو نکھارنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، جب کسی موقع پر لب خاموش ہوجاتے ہیں، تو آنکھیں ہی زبان کا کام دیتی ہیں۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ آنکھوں کی اچھے طریقے سے حفاظت کرے، تاہم کبھی کبھی بہت ہی چھوٹی غلطی بھی بڑے نقصان کا باعث بنتی ہے۔ اگر درج ذیل باتوں پرعمل کیا جائے تو نہ صرف آنکھوں کی خوبصورتی برقرار رہے گی، بلکہ ان سے آنکھوں کی حفاظت بھی ہوگی۔ لہٰذاہمیں مختلف اوقات میں مختلف طریقے پرسرمہ استعمال کرناچاہیے ۔یعنی کبھی دونوں آنکھوں میں تین تین سلائیاں کبھی دائیں آنکھ میں تین اوربائیں میں دو ، تو کبھی دونوں آنکھوں میں دو دو اور پھر آخر میں ایک سلائی کوسرمہ والی کر کے باری باری دونوں آنکھوں میں لگائیں ۔ اس طرح کر نے سے تینوں سنتیں ادا ہوجائیں گی ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ تکریم کے جتنے بھی کام ہوتے سب ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سیدھی جانب سے شرو ع کیا کرتے،لہٰذا پہلے سیدھی آنکھ میں سرمہ لگائیں پھر بائیں آنکھ میں ۔ (المرجع السابق،الفصل الثالث،فی صفۃ شعرہ۔۔۔۔الخ،ص۸۱)

Sharing is caring!

Comments are closed.