”اس عمل سے کوئی بھی غیر انسانی مخلوق اس جگہ نہیں رہ سکتی“

معوّذتین کا وِرد اور وظیفہ کرنا واقعی شیطانی خرافات کا علاج ہے

لیکن قراء ت میں یہ گنتی مقرر کرنا شرع میں ثابت نہیں۔ بلا تعیین وِرد جاری رکھیں۔ ہر قسم کی مشکلات سے نجات حاصل ہوگی۔ نبیﷺ سے ثابت ہے کہ رات کو سوتے وقت آپﷺ بستر پر بیٹھ کر اور دونوں ہاتھوںکو ملا کر ان میں معوّذات کی تلاوت کرکےبقدرِ استطاعت سارے جسم پر ہاتھ پھیرتے اور یہ عمل تین دفعہ کرتے۔ اس مقام پر چونکہ گنتی ثابت ہے لہٰذا عمل اس پر ہو گا۔ اور جہاں ثابت نہیں اپنی طرف سے مقرر نہیں کرنی چاہیے۔ نیز ان سورتوں کو پڑھ کر پانی کے بجائے اپنے جسم پر پھونک ماریں، جس طرح کہ آپﷺ کی عادت مبارک تھی۔جنات کو اللہ رب العزت نے انسانی آزمائش کے لیے یہ قدرت دے رکھی ہے کہ وہ ہر مختلف تصرف کرکے انسانی زندگی پر اثر اندازہوسکتے ہیں، جس کا قرآن وحدیث سے واضح ثبوت بھی ملتا ہے، لہذا کسی کے جسم پر جن کا تسلط اور اس کے اثر سے مغلو ب ہوجانا کوئی بعید نہیں ہے۔

نیز جنات کی تسخیر ممکن ہے اور ان سے بچاؤ کے لیے شرعاً اس کی گنجائش بھی ہے۔ لیکن ان باتوں میں غلو درست نہیں ہے، عموماً اس سے توہمات بڑھتے ہیں اور ایمان کم زور ہوتاہے، کامل ایمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل ایمان ویقین رکھتے ہوئے حدودِ شرع کا لحاظ رکھے اور اس حوالے سے مسنون اذکار پر اکتفا اور ان کا اہتمام کرے، قرآن مجید میں ہر طرح کے سحر، شیاطین وجنات وغیرہ کے شرور سے حفاظت کا نسخہ معوذتین (سورۃ الفلق وسورۃ الناس) کی صورت میں موجود ہے، صبح وشام آیۃ الکرسی اور آخری تین قل تین تین مرتبہ پڑھ لیں، نیز دیگرمسنون اوراد واذکار کے اہتمام سے ان سے حفاظت ہوجاتی ہے۔ کسی وظیفے میں اذن یعنی اجازت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ مجھے اس سائنس کی وجہ معلوم نہیں لیکن اگر میں پچھلے بیس سال سے ایک منزل پڑھ رہا ہوں اور کسی کو کہوں گا کہ تمہیں اجازت ہے کہ تم یہ پڑھنا شروع کر دو تو اس منزل کو پڑھنے کا وہی اثر اس کے پڑھنے میں منتقل ہو گا

جو میرے پڑھنے کا ہے۔ اور میرے پڑھنے کا اثر مجموعی طور پر بیس سال میں جمع ہوا ہے یعنی ایک چیز کو مسلسل وظیفہ بنائے رکھنے سے بھی اس کا اثر بڑھتا رہتا ہے۔ اس اجازت اور اذن والی بات کو اس فن کے تقریبا تمام ماہرین مانتے ہیں اگرچہ آپ کو یہ معقول نہ بھی معلوم ہو لیکن یہ ہوتا ہے۔ تو کوشش کریں کہ ایک وظیفہ اگر کسی کے معمول میں ہو تو اس سے وہ پڑھنے کے لیے لیں تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کی پڑھائی کا اثر بدل ہو جائے گا۔ مذکورہ وظیفہ کی اجازت عام ہے اس کے لئے کسی خاص اجازت کی ضرورت نہیں جو بھی اپنے مسائل کے حل کے لئے پڑھنا چاہے بغیر اجازت پڑھ سکتا ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.