اللہ کی قسم تین دنوں کے اندر ہر بیماری جڑ سے ختم ہوجائیگی گھر میں یہ دو سورۃ پڑھیں ڈاکٹرکے خرچے ختم

ہم نے نازل کی اس قرآن کو جس کے اندر شفاء اور رحمت ہے تمام مؤمنوں کیلئے روایت میں آتا ہے

کہ آپ ﷺ کئی مرتبہ سورۃ الفلق او ر سورۃ الناس پڑھ کر دم کیا کرتے تھے ان میں ظاہری بیماریوں میں شفاء ہے ۔ یہ دونوں سورتیں چھوٹی بھی اور آسان بھی اور تقریباً ہر کسی کو یاد بھی ہوتے ہیں۔ لیکن ان سورتوں کے اس فائدے کے بار ے میں بہت کم لو گ جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ ڈاکٹروں کے پاس بھاگتے نہیں پھرتے ۔آپﷺ کےبتائے ہوئے طریقے پر ہم یقین نہیں کرتے اور نہ ہی عمل کرتے ہیں۔ اس عمل کو رات سونے سے پہلے جب بستر پر لیٹیں تو اپنا معمول بنا لیں ڈاکٹروں کے چکر سے جان چھوٹ جائیگی ۔ جس کا قرآن سے تعلق نہیں اللہ تعالیٰ اسے باطنی بیماریوں میں ڈال دیتے ہیں نبی پاک ﷺ نے فرمایا بے شک انسانی دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے۔پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کونسی چیز ہے جو اس کو صاف کرتی ہے ۔ آپﷺ نے فرمایا موت کو کثر ت سے یاد کرنا اور قرآن کریم کی تلاوت کرنا ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کے دل کو لوہے کی مانند زنگ لگ جاتا ہے ۔ انسان کے دل کو زنگ لگنے کا مطلب یہ ہے کہ دل بیمار ہوجاتا ہے ۔ اس کی بیماری کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ مثلاً کبھی اس کے دل پر دنیا اور نامحرم کی محبت غالب آجاتی ہیں۔ اور دیگر بیماریاں اس کے دل کو جکڑ لیتی ہیں جیسے حرص بخل ، کینا ،چغل وغیرہ آپﷺ نے اس کی دوا بھی فرماد ی کہ ان امراض کا علاج موت کا تذکرہ ہے ۔ اور قرآن کی تلاوت ہے ۔ ایک دوسر ی حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے کہ جب مسلمان بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے دوسرا گناہ کرتا تو دوسرا نقطہ پڑ جاتا ہے کرتے کرتے اس کا دل سیاح ہو جاتا ہے ۔ اسی لیے ضروری ہے کہ دل کو صاف رکھنے کیلئے قرآن کریم کی تلاوت کی جائے استغفار کی کثرت کی جائے اور موت کو سامنے رکھ کر زندگی بسر کی جائے ۔ جس دوسری حدیث کی ہم بات کررہے تھے

وہ یہ ہے آپﷺ نے فرمایا جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین میں نہیں لکھا جائیگا۔ جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اسکا نام ذاکرین میں لکھا جائیگا ۔ جو شخص سوآیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانطین یعنی عبادت گزاروں میں لکھا جائیگا ۔ جو شخص دو سوآیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین یعنی خدا کے سامنے متوازے ان لوگوں کے سامنے لکھا جائیگا ۔ ہم آپ کو یہ بتانا چاہ رہے تھے ۔ جس شخص نے آخری دو سورتوں کو سونے سے پہلے معمول بنا لیا تو بیماریوں سے شفاء کے ساتھ ساتھ وہ اس فضیلت کا بھی مستحق ہوجائیگا کیونکہ ان دو سورتوں کی آیات دس سے گیارہ بنتی ہیں لہذا وہ شخص جو انکو سونے سے پہلے اہتمام سے تلاوت کرنے کو معمول بنائے وہ غافلین میں نہیں لکھا جائیگا۔قرآن کے حرف کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں۔جو شخص قرآن پاک کا ایک ایک حرف پڑھے اسکو دس نیکیوں کے برابر نیکی ملتی ہے ۔ الم ایک حرف نہیں بلکہ ا ل م تین حروف ہیں اتنا پڑھنے سے تیس نیکیاں ملیں گی۔تلاوت قرآن کا ثواب اس کے سمجھنے پر موقوف نہیں بغیر سمجھے بھی ثواب ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم قرآن پڑھو اس لیے کہ قرآن پڑھنے والوں کیلئے سفارشی بن کر آئیگا۔ قیامت کے دن قرآن اور قرآن والے جو اس پر عمل کرتے تھے ان کو لایا جائیگا تو سورۃ البقرہ اور آلِ عمران پیش پیش ہوں گی اوراپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی ۔جو لوگ قرآن کو مضبوطی سے تھام لیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بلند کردیتاہے وہ دنیا میں بھی عزت حاصل کرتا ہے اور آخر ت میں بھی جنت میں داخل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن پاک سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.