”اگر کسی شخص سے گن اہ ہوجائے تو کیا کرے؟“

والدین اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی : نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا:

جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر دراز کرے اور اس کا رزق بڑھائے، اسے چاہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔ خریدو فروخت کا ایک اصول: نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ اور کسی مسلمان کے لیے یہ حلال نہیں ، کہ وہ اپنے بھائی کو کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو ، سوائے ا س کے کہ وہ اس عیب کو اس کے سامنے واضح کر دے۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے کوئی گن اہ سرزد ہوجائے پھر وہ اچھی طرح وضو کرے اور اٹھ کردو رکعت نماز پڑھے، اور پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ضرو ر معافے فرمادیتا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں۔ کہ آپ ﷺ جب گھر میں ہوئے تو کپرے پیوند کرتے ، بکری کا دودھ دوہتے اور اپنا کام خود کرتے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص تم میں سے برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدلنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے اپنے ہاتھ سے بدلے۔ پس اگر وہ استطاعت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے۔ اگر زبان سے استطاعت نہ رکھتا ہو تو دل سے (اسے برا جانے) یہ کمزور ترین ایمان ہے۔حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر کوئی آدمی ایسی قوم سے ہو جس میں گ ناہ ہوتے ہوں اور وہ اسے منع کرنے کی قدرت بھی رکھتے ہوں پھر بھی اسے نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ ان کی م وت سے پہلے انہیں ع ذاب میں مبتلا کردے گا۔حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری اس وقت کیا کیفیت ہوگی یا فرمایا

قریب ہے کہ ایک ایسا دور آئے کہ اس میں لوگ الگ الگ کردیئے جائیں گے (اچھے برے الگ الگ ہوجائیں گے) رزیل قسم کے لوگ باقی رہ جائیں گے ان کے عہدو پیمان اور امانتیں ختم ہوجائیں گی اور آپس میں اختلاف ہوجائے گا اور وہ اس طرح ہوجائیں گے آپؐ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈالا۔ پس صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول اس حالت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا جو (احکام) تمہیں معلوم ہیں انہیں اختیار کرو اور جو تمہیں معلوم نہیں انہیں چھوڑ دو اور تمہارے جو خاص لوگ ہیں ان کے امر کی فکر کرو(اس کی طرف متوجہ ہو) اور تمہارے جو عام لوگ ہیں ان کے امر چھوڑ دو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی کو ہدایت کی دعوت دی تو اس داعی کو بھی اس قدر ثواب ملے گا جس قدر اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا اور ان میں سے کسی کے ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی اور جس شخص نے کسی کو گمراہی کی دعوت دی تو اس پر بھی اتنا ہی گن اہ ہوگا جتنا اس کی اتباع کرنے والوں کو ہوگا اور یہ ان کے گن اہوں میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.