”بانجھ پن معلوم کرنے کا طریقہ بس عورت اپنی شرم گاہ میں سات گھنٹے یہ رکھے“

معاشرے میں بانجھ کا لقب عورت کے لیے مخصوص کردیا گیا ہے

جوقطعی غلط ہے۔ اگر مرد بانجھ ہو تب بھی معاشرے کو یہی بتایا جائے گا کہ عورت بانجھ ہے اور مرد اس کی محبت میں دوسری شادی نہیں کر رہا۔ اس کیس میں بھی عظمت کا تاج مرد کے سر پر سجا دیا جاتا ہے۔ اگر بانجھ مرد مزید شادی بھی کرلے تب بھی تشخیص اور علاج کے نام پر عموماً قربانی کا جانور عورت ہی کو بنایا جاتا ہے۔

عورت کے تولیدی نظام کا سیٹ اپ ایسا ہے کہ ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک کے درمیانی28 سے30 روز میں سے کسی ایک دن انڈہ خارج ہوتا ہے۔ یہ دن عموماً اگلی ممکنہ تاریخ سے ٹھیک چودہ دن پہلے ہوتا ہے۔ یہ انڈہ بارہ سے چوبیس گھنٹے کے لیے نظام تولید میں زندہ رہتا ہے جس کے بعدگر جاتا/ضائع ہو جاتا ہے۔.

عورت کی زرخیزی و بارآوری کا دارومدار اس حقیقت پر ہے کہ اس کی بیضہ دانیاں صحت مند بیضے پیدا کریں۔ اس کا تولیدی نظام اس انڈے کو بیضہ نالیوں سے گزرنے اور مردانہ خلیے سے ملنے کی سہولت مہیا کرے، بارآور انڈہ ٹیوب سے رحم تک جانے اور رحم کی اندرونی جھلی سے چپکنے کے لیے آزاد ہو۔

عورت کے ٹیسٹ اسی عمل میں موجود کسی بھی رکاوٹ یا مشکل کو جانچنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔انڈوں کی پرورش اور پیدائش کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز کے ساتھ ساتھ نظام تولید کو کنٹرول کرنے والے پیچوٹری ہارمونز کو پرکھا جاتا ہے۔ بانجھ پن کی کچھ وجوہات ناقابل علاج ہیں جب بھی بنا علاج کے خودبخود حمل نہیں ٹھہرتا تب مدد لی جانا چاہیے۔ بانجھ پن کا علاج معاشی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر مشکل اور مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

نیز دوران علاج زوجین کے وقت ، عزم اور بلندحوصلہ کی بے حد اہمیت ہے۔آج ہم آپ کو بانجھ پن معلوم کرنے کا طریقہ بتائیں گے ۔عقبہ کہتے ہیں کہ بانجھ پن معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ لہسن کو ایک روئی کے ٹکڑے میں لیکر عورت اپنے شرمگاہ میں سات گھنٹے رکھے رہے اتنے میں اگر عورت کے منہ سے لہسن کی بدبو آنے لگے تو اس کا علاج دواؤں کے ذریعے کیا جاسکتا ہے علاج کرنے پر انشاء اللہ عورت حمل کے قابل ہوجائیگی ۔ اگر بدبو نہ آئے تو اسے لاعلاج سمجھیں۔ امام راضی ؒ کے مطابق یہ نسخہ آزمودہ ہے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.