بچہ کبھی بستر پر پیشاب نہیں کرے گا۔

اس تحریر میں ان بہن بھائیوں کے لئے وظیفہ شیئر کیاجارہا ہے جو کہتے ہیں کہ ان کو پیشاب بہت زیادہ آتا ہے

بار بار مختصر وقفوں میں پیشاب آنے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں اس سے آپ کی طرز زندگی اور نیند میں بھی خلل پیداہوتا ہے چار سے آٹھ بار پیشاب آنا بالکل نارمل ہے لیکن اگر اس سے زیادہ آئے تو یہ نارمل نہیں ہے

اور اگر بچے رات کو پیشاب بستر پر کر دیتے ہوں یا سردیوں میں بڑے یا چھوٹوں کا پیشاب رات میں بستر پر ہی نکل جاتا ہے تو ان کے لئے بہت ہی آزمودہ وظیفہ ہے ۔دو وظائف بتائے جائیں گے۔پہلا عمل یہ آیت سپارہ نمبر بارہ میں سورہ ھود کی 44 نمبر آیت ہے تو اس آیت کو آپ نے سات بار کاغذ پر لکھ کر۔

اس کو پانی میں گھول کر اس کو پلانا ہے یہ آیت آپ نے ساری نہیں لکھنی آپ نے یہ آدھی لکھنی ہے اس عمل کی برکت سے بچے یا بڑے کا پیشاب نکلنا بند ہوجائے گا آیت :یاارض ابلعی ماء ک ویٰسمآء اقلعی وغیض الماء وقضی الامر ہے۔

دوسرا عمل یہ ہے :اگر کسی بچے یا بڑے کو بہت زیادہ پیشاب آتا ہو تو وہ سورۃ الفاتحہ کو اکیس مرتبہ تلوں پر دم کر کے گیارہ دن تک اس کو کھلایا جائے انشاء اللہ کثرت پیشاب کا مرض ختم ہوجائے گا۔اگر آپ زیادہ مقدار میں پانی پینا شروع کردیں تو آپ کو واش روم کے چکر بھی زیادہ لگانے پڑتے ہیں، اور اگر کچھ زیادہ ہی چکر لگ رہے ہیں، تو دیکھیں آپ کتنا پانی پی رہے ہیں۔
عام طور پر زیادہ پانی پینے کے نتیجے میں جسم میں نمکیات کی کمی ہونے لگتی ہے جس کا عندیہ پیشاب کی بالکل شفاف رنگت سے بھی ہوتی ہے، جو بتدریج صحت کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے، تو اس کا ایک آسان حل بہت زیادہ کی جگہ مناسب مقدار میں پانی پینا ہے۔مشروبات جیسے کافی، چائے یا کولڈ ڈرانکس وغیرہ زیادہ مقدار میں پینا بھی ہر وقت پیشاب آنے کی وجہ بن سکتا ہے،
ان مشروبات کے نتیجے میں جسم میں نمک اور پانی کی مقدار بڑھتی ہے اور گردوں ان کی صفائی کرتا رہتا ہے جس کے باعث زیادہ پیشاب آتا ہے۔اس مرض میں مثانہ اور گردے متاثر ہوسکتے ہیں اور اس انفیکشن کے باعث مثانے ورم کے شکار بھی ہوجاتے ہیں جس کے باعث ایسا لگتا ہے کہ 24 گھنٹے پیشاب آرہا ہے حالانکہ جسمانی نظام میں اتنا سیال ہوتا نہیں۔

ایسے حالات میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔جب آپ ذیابیطس کے شکار ہوجائیں تو آپ کا جسم خوراک کو شوگر میں تبدیل کرنے میں زیادہ بہتر کام نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں دوران خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور جسم اسے پیشاب کے راستے باہر نکالنے لگتا ہے، یعنی ٹوائلٹ کا رخ زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اس مرض کے شکار اکثر افراد اس خاموش علامت سے واقف ہی نہیں ہوتے اور نہ ہی اس پر توجہ دیتے ہیں۔
خاص طور پر رات کو جب ایک یا 2 بار ٹوائلٹ کا رخ کرنا تو معمول سمجھا جاسکتا ہے تاہم یہ تعداد بڑھنے اور آپ کی نیند پر اثرات مرتب ہونے کی صورت میں اس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *