”بچے بہت ضدی ہیں بات نہیں مانتے“

ڈاکٹر صاحب سے ایک سوال پوچھا گیا۔ کہ ہمارے بچے شدید ضدی ہیں۔ اطاعت نہیں کرتے؟

جس بہن یا بھائی نے یہ سوال کیا ہےوہ ایک بات پلے باندھ لے ۔ بچے ضدی نہیں ہوتے۔ ان کے ماں باپ ضدی ہوتے ہیں۔ میرے پاس امریکہ سے ایک ڈاکٹر آئی۔ اس کے بیٹے کو مسئلہ تھا۔ اوٹیزم تھی ۔ میں نے بتایا بیٹے کو اوٹیزم نہیں ہے۔ اس کی ماں کو اوٹیزم ہے۔ سارے بڑے حیران ہوئے۔ ڈاکٹر نے اتنا غ صہ کیا۔

کہ وہ ناراض ہوگئیں ۔ کہتی ہیں میں آپ کے بارے میں اتنا کچھ سن کرآئی تھی ۔ آپ نے مجھےغلط ٹھہرا دیا۔ الحمد اللہ! آج و ہی ڈاکٹر چیخ چیخ کر کہتی ہے۔ کہ بچے بیمار نہیں ہوتے ۔ ماں باپ بیمار ہوتے ہیں۔ ایک بات یاد رکھو ! بچے جب دنیا میں آئے تھے۔ وہ بالکل کالے تھے۔ کورے کاغذ تھے۔ ان سب سےزیادہ کس کو دیکھا۔ تو جیسا ان کو دیکھا ویسا وہ بن گئے۔ اگر ماں باپ پیارے پیغمبر جناب محمد ﷺ کے اس حدیث کو ماننے والے ہوتے۔

کہ جس عمل سے نرمی نکل جاتی ہے۔اس میں سے خیر نکل جاتی ہے۔ اور ماں باپ اپنے ہر عمل میں کیا لے کرآتے ہیں؟ نرمی؟ بتاؤ بچوں نے کیسے ہوناتھا۔ نرم ہونا تھا۔ بچے ضدی کیوں ہیں؟ چیلنج سے کہتا ہوں۔ اکیس دن ماں باپ روز ت وبہ کریں۔ ت وبہ کرکے اپنے وضو اور غسل کے پانی سے اس کوغسل دیں۔ اگر آپ کا بچہ ضدی رہ جائے۔ پھر مجھے سے اتنا کہنا ڈاکٹر صاحب ہم بدل گئے اور ہمارے بچے نہیں بدلے۔ اور اللہ پا ک ایسا ہونا ہی نہیں دے گا۔ پتا ہے کیوں؟ کیونکہ بیماری ہوتی ہے فطرت سے ہٹنا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.