”بگڑے ٹانسلز کا شافی علاج“

ٹانسلز (tonsillitis) ہمیشہ تکیلف دہ درد کا باعث ہوتے ہیں۔

اس حوالہ سے ڈاکٹر گنیش نارائن چوہان اپنی ہندی کتاب “کیا کھائیں اور کیوں؟” میں “ٹانسلز” کی تکلیف کو کم کرنے کے لیے ایک آسان گھریلو نسخہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں: “گرم پانی میں نمک ڈال کر غرارے کرنے سے ٹانسل، گلے میں درد اور سوجن میں فائدہ پہنچتا ہے۔ ٹانسل میں جب تک درد ہو، روزانہ غرارے کرتا رہنا چاہیے۔

گلے پڑنا (Tonsilitus ) فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم : اپنے بچو ں کو حلق کی بیما ری میںگلا دبا کر ع ذا ب نہ دو جبکہ تمہا رے پا س قسط مو جو د ہے (بخا ری ومسلم) امراض حلق میں گلے پڑنا ایک مشہور مر ض ہے ۔ اس کو انگریزی میں (Tonsilitus )، عر بی میں ورم لوزتین ، اردو میں گلے پڑنا یا گلے پھو ل جانا کے نام سے مو سوم کیا جا تا ہے ۔ حلق میں زبان کی پچھلی طرف دونو ں اطراف میں چھوٹے چھوٹے غدود ہو تے ہیں ۔ ان غدود (ٹانسلز)کو انسانی بدن کا دربان کہا جا تاہے ۔ کیونکہ یہ غدود جرا ثیم کوآگے جانے سے روکتے ہیں اور جرا ثیم کو نا کا رہ بنا دیتے ہیں ۔

لیکن بعض اوقات شدی د ح م لے کی صورت میں یہ سن تری خود متورم ہو جاتے ہیں ۔ اس حالت کو گلے پڑنا یا ٹانسلز کا پھول جانا کہتے ہیں ۔ گلے پڑنے کا مرض آج کل بچو ں اور بڑو ں میں بہت زیا دہ ہے ۔ اس کے علاج میں غفلت سے نمو نیہ اور دم ک ش ی تک نوبت پہنچ جا تی ہے ۔ اس مر ض کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں : فضائی آلو دگی مثلا ً گر دوغبار اور دھ واں ، زیادہ گرم اور سر د اشیا ءکا استعمال یعنی گرم گرم کھانے کے بعد فوراً ٹھنڈا پانی یا ٹھنڈی بو تل پینا ۔ قوت مدا فعت کی کمزوری ، تم با ک و نو ش ی ، بار ش میں بھیگنا، گندی اشیا ءمنہ میں ڈالتے رہنا ۔ فیڈر اور چوسنی سے جرا ثیم کی معقول مقدار حلق میں جا تی رہتی ہے۔

ترش اور زیا دہ سر د اور گرم اشیا ءسے پرہیز کرے۔ گرم گرم کھانا کھا نے سے حلق کی جھلیو ں اور غدود میں ورم ہو جا تاہے ۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرم گرم کھا نا کھانے سے منع فرمایا ۔ ہر قسم کے ت یزاب ی کو لا مشروبا ت ، تمب ا کو ن و ش ی ، پان ، آئس کریم ، ٹا فیا ں اور چیو نگم سے پرہیز کیا جائے ۔ طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم معالج روح و جسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ا کثر امراض کا اصولِ علا ج عطا فرمایا ہے لیکن تفصیل معا لج کی تحقیق کے لیے چھوڑ دی تا کہ تفصیل اور تحقیق کا عمل مسلسل جاری و ساری رہے ۔

تین بیما ریا ں ایسی ہیں ، جن کا علا ج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کر کے دکھا یا ۔ ان میں وجع القلب ، استسقاءیعنی پیٹ میں پانی پڑنا اور گلے کی سوزش شامل ہے ۔ حضر ت جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کر تے ہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے عورتو ! تمہا رے لیے مقام افسو س ہے کہ تم اپنی اولا د کو ق ت ل کر تی ہو ۔ اگر کسی بچے کے گلے میں سوز ش ہو یا سر میں درد ہو تو قسط ہندی لے کر رگڑ کر بچے کو چٹا دے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ ایک اور روایت میں فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عا ئشہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہو ئے تو ان کے پا س ایک بچہ تھا جس کے منہ اور نا ک سے خ و ن بہہ رہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟ جوا ب ملا کہ بچے کو غدرہ ہے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.