جس گھر میں سورۃ البقرۃ کی آخری 2 آیات پڑھی جائیں ؟

یہ وہ دو آیات ہیں جو ہر چیز کے لئے کافی ہیں تو اسی کے بارے میں آقائے

دو جہان ﷺ کی احادیث مبارکہ موجود ہیں۔حدیث مسلم کی حدیث ہے :سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جب رسول اللہ ﷺ کو معراج ہوا یعنی آسمانوں کی سیر کروائی گئی اورآپ نے اپنے اللہ سے ملاقات کی تو وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو وہاں پر تین چیزیں دی گئیں یعنی یہ اللہ نے اپنے محبوب کو تحفہ دیا وہ تین چیزیں کیا ہیں ؟

ایک تو پانچ وقت کی نمازیں اور دوسری سورہ بقرہ کی آخری آیتیں اور تیسرا اللہ تعالیٰ نے بخش دیا آپﷺ کی امت میں سے اس شخص کو جو شرک نہ کرے اللہ کے ساتھ ،سبحان اللہ اس کی اتنی ہی فضیلت کافی ہے کہ یہ اللہ نے اپنے محبوب ﷺ کو سیدھی خود عطا کی بغیر کسی فرشتے کے وحی نہیں آئی اس کی تو یہ تو دنیا میں بھی ہے اگر کوئی محبوب کسی سے ملتا ہے

تو وہ اس کو وہ تحفہ دیتا ہے جو سب سے بہترین ہو تو جب ہمارے آقائے دو جہاں ﷺ نے اللہ سے ملاقات کی تو اللہ نے یہ تحفہ دیا سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی فضیلت یادرکھئے گا رات کو سونےسے پہلے سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھنے والا ہر آفت سے محفوظ رہتا ہے یہ بخاری کی روایت ہے ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ہمارے آقائے دو جہان ﷺ نے فرمایا جس نے رات کے وقت سونے سے پہلے سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لیں وہ اس کے لئے کافی ہوں گی اور ایک دوسری روایت میں آپ نے فرمایا سورہ بقرہ کی آخری دو آیات جادو کا اثر ختم کرنے کی زبردست تاثیر رکھتی ہیں اور اسی طرح فرمایا جس گھر میں مسلسل تین راتوں تک سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھی جائیں شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے یعنی اس کے قریب نہیں آت

ا حدیث کے الفاظ ہیں نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے دو جہان ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی اس کتاب کی دو آیتیں نازل کی اور انہی دونوں آیتوں پر سورہ البقرۃ کو ختم کیا جس گھر میں یہ دونوں آیتیں مسلسل تین راتیں پڑھی جائیں گی ممکن نہیں ہے کہ شیطان اس گھر کے قریب آجاسکے اور سورہ البقرہ کی آخری دو آیات تلاوت کر کے اللہ سے جو مانگا جائے

وہ پورا ہوتا ہے یہ مسلم شریف کی روایت ہے عبداللہ ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں وہ اس کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں ایک روز جبرائیل ؑ آقائے دو جہاں ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ انہوں نے اوپر سے دروازہ کھلنےکی آواز سنی اپنا اُٹھایا اور آقائے دو جہان ﷺ کو بتایا کہ یہ آسمانوں کے دروازوں میں سے ایک ایسا دروازہ ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں کھلا اس سے ایک فرشتہ نازل ہوا ہے

جو آج سے پہلے زمین پر کبھی نازل نہیں ہوا اور اس نے آپ ﷺ کی خدمت میں سلام عرض کیا ہے اور کہا ہے آپ ﷺ کو دو نور مبارک ہوں یہ خوش خبری دی اس نے یعنی ایسا دروازہ کھلا آسمانوں کا جو کبھی نہیں کھلا اور ایسا فرشتہ حاضر ہوا جو کبھی بھی اس سے پہلے زمین پر نہیں آیا اور اس نے خوشخبری دی اور کہا یہ دو نور مبارک ہوں کہ یہ آپ ﷺ سے پہلے یہ دونور کسی نبی کو آپ سے پہلے عطا نہیں کئے گئی

یہ دو روشنیاں کسی کو عطا نہیں کی گئیں پہلا سورۃ الفاتحہ ایک ایسا نور ہے جو سورت اس سے پہلے کسی کو نہیں ملی کسی نبی کسی امت کے حصے میں نہیں آئے اور دوسرا فرمایا سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں جو شخص یہ دو آیتیں پڑھے گا اسے اس کی مانگی ہوئی چیز ضرور دی جائے گی۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *