”دس منٹ میں سخت سے سخت قبض کو توڑ دینے والا آزمودہ دیسی نسخہ“

سرسوں کا تیل استعمال کرو۔ سرسوں کا تیل سب سے پہلی بات ہوتی ہے ٹھنڈی ہوتی ہے۔ اور آج ہر شخص کیا ہے؟

پریشان ہے۔ یہ سب سے پہلے آپ کے خ ون کو ٹھنڈا کرے گی۔ اور دوسرے نمبر پر یہ خوبی ہے کہ یہ کبھی جمتا نہیں ہے۔ اور اس سے بڑی خوبی یہ کسی چیز کو جمنے نہیں دیتا۔ جب یہ خون میں آئے گا۔ کبھی سوچو، بھینسوں کا پیٹ خراب ہوجاتا تھا۔ توسیانے لوگ کیا دیتے تھے۔

اورآج ہم سب کا کیاخراب ہے؟ اور ہمیں کیا دیا جاتا ہے؟ سرسوں کے تیل میں کھانا پکاؤ۔ اور اپنا جو آٹا گوندھتے ہو۔ اب سرسوں کے تیل میں مسئلہ ہے اس کا ذائقہ اچھا نہیں ہے۔ اس کا رنگ، خوشبواچھی نہیں ہے۔ گاڑھا ہے۔ دو کلو سرسوں کاتیل لو۔اس میں ایک بڑے سائز کا پیاز ڈالو۔ اس میں دس سبز مرچیں ڈال لو۔ دس لہسن کی تریاں ڈالو۔ دو انچ ادرک کا ٹکڑا ڈال دو۔ ان کو چھوٹا چھوٹا کاٹ لو۔ اور دوچمچ زیرہ ملاؤ۔ اس کا اتنا پکاؤ ،کہ ساری چیزیں براؤن ہوجائیں۔ اس کو چھان کر پھر اس تیل کو استعمال کریں۔ اس تیل کو جب آٹا گوندھتے ہو۔ تھوڑا ساتیل آٹے میں ڈال دو۔ واللہ! اتنی زبردست روٹی بنے گی۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ قبض ہوتی ہے۔ا ور اس کی دوائیاں کھاتے ہیں۔ وہ آٹا جس میں چوکر ہے۔ جس میں سوجی ہے۔ جس میں میدہ ہے جس میں فائبرہے۔ یعنی پتھر کی چکی کاآٹالو۔ پتھر کی چکی کا جوآٹا ہے وہ آٹا ہے۔ جو چائنا کی چکی ہیں۔ جو اسٹیل کی چکی ہیں۔ جو بلیڈوں والی چکیاں ہیں ۔وہ آٹا نہیں ہے۔ وہ ز ہ ر ہے۔ پتھر کی چکی پر آٹا پستا ہے۔ اور لو ہے کی چکیاں پر آٹا کٹتا ہے۔ اس کی موٹراتنی سپیڈ سے گھومتی ہے۔ کہ اس سارے آٹے کو جلا کر پاؤڈر بنا دیتی ہے۔ پھر کیا اس کا چوکر باقی بچے گا۔ اس کی سوجی باقی بچے گا۔ باقی فائبرز بچے گا۔ جو آپ کھارہے ہیں۔ وہ گندم کا جلا ہوا بھوسا ہے۔ وہ گند م نہیں ہے۔ کیا آپ کھارہے ہیں؟ اور یہ سب سے زیادہ آ پ کے خ ون کو گاڑھا کرےگا۔ اور آج لوگوں میں برداشت ہے۔ حوصلہ ہے۔ ہمت ہے۔ یہ خ ون کا گاڑھا کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.