سرکہ سے ی ورک ایسڈ کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ

پیورین کے ٹوٹنے کی وجہ سے ج س م میں ی ورک ایسڈ بنتا ہے جو خ ون سے گردوں تک پہنچتا ہے

اور گردوں سے پیشاب کے ذریعے ج س م سے باہر نکلتا ہے۔جب یورک ایسڈ ج س م سے باہر نہ نکلے تو یہ ج س م کے اندر چھوٹے چھوٹے کرسٹل کی شکل میں جوڑوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے جوڑ بے کار ہو جاتے ہیں اور م ری ض کا چلنا پھرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ی ورک ایسڈ بڑھنے کا تعلق صرف غیر صحت بخش غذا کھانے سے نہیں ہے بلکہ ی ورک ایسڈ ذہنی امراض اور دل کے جملہ ام راض ہونے کے باعث بڑھ سکتا ہے۔یورک ایسڈ کو کنٹرول کرنے کے لئے چند عادات کو ترک کرنا پڑتا ہے اور چند غذائی عادات کو اپنی روز مرہ زند گی میں شامل کرنا پڑتا ہے۔جب یورک ایسڈ مطلوبہ مقدار سے بڑھتاہے تو جسم میں مختلف امراض کی علامات رو پزیر ہونے لگتی ہیں۔ ایک صحت مند انسان کے ج س م سے اضافی یورک ایسڈ کی مقدار کو گردے پیشاب کے رستے خ ارج کرتے رہتے ہیں لیکن جب اس کی مقدار زیادہ بڑھ جائے تو گردے بھی اسے خ ارج کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔

ی ورک ایسڈ کی بڑھی ہوئی مقدار ی وری ا کی شکل میں گردوں کی کارکردگی کو متاثر کرنے سمیت ج س م کے جوڑوں میں کرسٹل بن کر جمع ہونے لگتی ہے جو بعد ازاں جوڑوں کی حرکات و سکنات میں رکاوٹ کا باعث بن کر درد اورس وج ن کا سبب بن جاتی ہے۔یورک ایسڈ کے مسائل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ بدن میں اس کی مطلوبہ مقدار سے زیادہ جمع نہ ہونے دیا جائے۔ ی ورک ایسڈ کی غیر ضروری افزائش سے بچنے کے لیے معدے اور انتڑیوں کی کار کردگی کا درست ہونا لازمی ہے۔ معدے میں تیزابیت، تبخیراور گیس کی علامات کو پیدا ہونے سے روکا جائے۔اس کا بہترین حل یہی ہے کہ کم از کم آٹھ گھنٹے کے وقفے سے کھانا کھایا جائے۔کھانے کے فوری بعد سونے اور نہانے سے بچا جائے۔

کھانا کھاتے ہی مشقت والا کام بھی نہ کیا جائے ۔ سخت محنت والا کام کرنے کے فوراً بعد ٹھنڈا پانی پینے سے بھی پرہیز کیا جائے۔رات کا کھانا کھاتے ہی لیٹنے اور سونے سے بھی احتیاط کرنی چاہیے۔پانی صرف اتنا ہی پیا جائے جتنی طلب ہو،کھانے کے فوری بعد پانی کم سے کم پیا جائے، کولڈ ڈرنکس اور ٹھنڈے پانی کا استعمال بالکل نہ کیا جائے۔ چائے، کافی اور قہوہ وغیرہ کھانے کے بعد مناسب وقفےسرکہ :سرکہ ایک قدرتی کلینسر اور ڈٹوکسفائر ہے۔سرکہ ہمارے ج س م سے فاضل مادہ جس میں ی ورک ایسڈ شامل ہے باہر نکالنے میں مدد کرتا ہے بلکہ اس میں موجو د میلک ایسڈ یورک ایسڈ کو ٹوڑ کر پیشاب کے ذریعے باہر نکالنے میں مدد کرتا ہے۔ایک گلاس پانی میں ایک چمچ خالص ا?رگینک سرکہ حل کر کے پینے سے یورک ایسڈ کنٹرول ہوتا ہے۔یہ محلول دو ہفتہ تک دن میں دو دفعہ استعمال کرنے سے ی ورک ایسڈ کنٹرول ہوتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.