سورۃ اخلاص کا صرف ایک وظیفہ۔ جس نے کئی لوگوں کی زندگی بدل دی یقین قرض سے نجات، شادی کے لیے، محبت کے لیے، ہر حاجت کے لیے مجرب وظیفہ

اکثر آپ نے سنا ہوگا کہ رات کو ناخن کاٹنا اچھا عمل نہیں ہے ایسی طرح پر آپ نے یہ بھی سنا ہو گا

کہ رات کو جھاڑو دینا اچھا نہ ہے یہ تمام باتیں جو ہم سنتے ہیں تاریخ میں ان کے بارے میں متخلف واقعات رونما ہو چکے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے کچھ ایسے کاموں سے روکا گیا ہے جو کہ رات کو نہیں کرنے چاہییے ان میں سے ایک یہ ہے کہ رات کو ناخن نہیں کاٹنے چاہیے جس کے پیچھے ایک واقعہ ہے جو کہ درج ذیل ہے کہ ایک دن حضرت علیؓ عشاء کی نماز کے بعد اپنے گھر کو جارہے تھے کہ ایک شخص اپنے ناخن کاٹ رہا تھا

یہ دیکھ کر آپؑ اس شخص کے پاس گئے اور فرمایا کہ اے شخص میں نے اللہ کے رسول حضرت محمد صلی

اللہ علییہ والہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص رات کے وقت اپنے ناخن کاٹتا ہے وہ تنگدستی ،پریشانی اور بیماری میں گرفتار ہو جاتاہے تو اس پر اس شخص نے کہا کہ اے علیؓ کیا میں ایک سوال کر سکتا ہوں ؟ تو آپ نے فرمایا جو سوال کرنا چاہتے ہو کرو تو اس شخص نے پوچھا کہ اے علیؓ رات کو ناخن کاٹنے سے پریشانی ،تنگدستی اور بیماری کیوں آجاتی ہے اس کی کیا وجہ ہے تو آپؑ نے فرمایا کہ اے شخص جب آدم ؑجنت میں تھے تو اللہ تعالیٰ نے جنت کی سب سے بہترین دھات جس سے لوہَِ محفوظ کو بنایا گیا تھا اللہ نے اس دھات کا لباس آدمؑ کے جسم پر پہنایا جو کہ ناخن کی مثل تھا اس لباس سے آدمؑ اور ان کی بیوی کا جسم ڈھکا ہوا تھا لیکن جب افسوس جب آدمؑ نے نافرمانی کی تو اور اس شجر کے قریب گیا جس سے اس کو روکا گیا تھا تو اللہ نے اس لباس کو آدمؑ کے جسم سے جدا کر دیا تو آدمؑ کا جس ان کو نظر آنے لگا تو اللہ نے ناراض ہو کر آدمؑ کو اور ان کی بیوی حواء کو جنت سے زمین بھیج دیا تاکہ آدمؑ اور ان کی اولاد اپنے امتحانات سے گزر کر ثابت کر سکیں کہ کیا وہ جنت میں رہنے کے قابل ہیں بھی یا نہیں۔لیکن اس لباس کا کچھ حصہ انسان کی پاؤں کی اور ہاتھوں کی انگلیوں پر رہ گیا ۔

اللہ نے رات کو سکون آرام آور عبادت کے لیا بنایا ہے چاند کی روشنی انسان کے جسم کو تصوف سے ملاتی ہے اور معرفت قریب لے کر جاتی ہے ناخن کا بڑھنا زندہ انسان کی پہچان ہے جو انسان جسم کے اس نورانی حصے کو رات کے وقت کاٹتے ہیں تو اس سے ان انسانوں کے کاموں میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں اور ذہن بد تری کی جانب جاتا ہے اور جو انسان اپنے ناخن کاٹ کر راستے میں پھینک دیتا ہے تو وہی ناخن پیروں تلے کچلے جاتے ہیں تو وہ انسان بیمار رہتا ہے اور تنگ دستی اس کے وجود پر ہاوی ہو جاتی ہے اس لیے ناخن دن کے وقت کاٹے جائیں اور کاٹ کر ایسی جگہ پر رکھے جائیں جہاں پر وہ پیروں تلے کچلے نہ جائیں

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *