”شادی کے لیے استخارہ“

انسان کی زندگی میں شادی اہم ترین مرحلہ ہے۔ شریک حیات کا انتخاب انتہائی سمجھ کر کرنا چاہیے۔

اگر میاں بیوی میں ہم آہنگی ہو، وہ ایک دوسرے کے طبعی میلان، عادات، پسند ناپسند کا خیال رکھیں تو ایسا گھر جنت نظیر ہوتا ہے اور اللہ نہ کرے اگر اس کے برعکس صورت حال ہو تو دنیا میں ہی عذاب سے واسطہ پڑ جاتا ہے ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ والدین اور اولاد دونوں کی طرف سے شادیوں کے فیصلے میں زبر دست زیادتیاں اور غلطیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ والدین عام طور پر رشتہ داروں میں یا لالچ کی خاطر شادیاں کرنے کے لیے غیر مناسب رشتوں کا انتخاب کرتے ہیں جس کا نتیجہ بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اسی طرح اولاد بھی حقائق کو ٹھکرا کر لو میرج جیسی لعنت میں مبتلا ہو جاتی ہے جو وقتی اور جزباتی فیصلہ ہوتا ہے جس کا انجام کچھ ہی عرصہ کے بعد انتہائی ب ھ یانک صورت حل میں سامنے آتا ہے۔ ان تمام مصائب سے بچنے کے لیے استخارہ ایک زبردست ہتھیار ہے جس میں ناکامی کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔

شادی کی اہمیت کے پیش نظر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر استخارہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استخارہ کا ذکر عام طور پر کیا جس میں شادی بھی داخل ہے مگر اس کا خاص ذکر اس کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔عن أبي أيوب الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ” اكتم الخطبة ثم توضأ فأحسن الوضوء ثم صل ما كتب الله لك ثم احمد ربك ومجده ثم قل : اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، فَإِنْ رَأَيْتَ لِي فِي فُلَانَةِ ( تسميھا باسمھا ) خَيْرَاً فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي فَاقْدُرْهَا لِي وَإِنْ كَانَ غَيْرُهَا خَيْرٌ لِي مِنْهَا فِي دِينِي وَآخِرَتِي فاقض لِي بھا او قال فَاقْدُرْهَا لِي ” .سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ شادی کے لیے خاص طور پر استخارہ کی روایت ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “تو بہترین طریقہ سے وضو کر پھر اللہ تعالیٰ نے جو تیرے مقدر میں لکھی ہے وہ نماز پڑھ پھر اللہ تعالیٰ کی تعریف اوربزر گی بیان کر” پھر یہ کہہ :”اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، فَإِنْ رَأَيْتَ لِي فِي فُلَانَةِ ( تسميھا باسمھا) خَيْرَاً فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي فَاقْدُرْهَا لِي وَإِنْ كَانَ غَيْرُهَا خَيْرٌ لِي مِنْهَا فِي دِينِي وَآخِرَتِي فاقض لِي بھا او قال فَاقْدُرْهَا لِي “اے اللہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں طاقت نہیں رکھتا۔ تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا تو غیبوں کو خوب جاننے والا ہے اور اگر تو فلاں عورت کے متعلق سمجھتا ہے (اس کا نام لے) کہ اگر وہ میرے لیے دین، دنیا اور میری آخرت کے لحاظ سے بہتر ہے تو میرے لیے اس کا فیصلہ فرما دے۔

اور اگر اس کے علاوہ کوئی میرے دین، دنیا اور آخرت کے لحاظ سے بہتر ہےتو میرے لیے اس کا فیصلہ کر دے یا اس کو میرے مقدر میں کر دے۔ “اس حدیث کی روشنی میں یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ والدین اپنی اولاد کے لیےکسی رشتہ کا انتخاب کرتے وقت استخارہ کر سکتے ہیں کہ آیا وہ اپنی بیٹی یا بیٹے کی شادی اس جگہ کریں یا نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے بہتر فیصلہ ہی فرمائیں گے۔احادیث کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شادی کے متعلق اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرنے والا ناکام نہیں ہوتا۔ کیونکہ اگر وہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے بہتری اور بھلائی کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کبھی بھی اس کے لیے نامناسب فیصلہ نہیں کرتے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *