صبح نا شتہ میں یہ والی روٹی کھالیں

بڑھا ہواوزن ایک ایسا مسئلہ جو انسانی صحت کو بہت سی بیماریاں لاحق کر دیتا ہے

زیادہ تر امراض میں ڈاکٹر سب سےپہلے موٹاپا کم کرنے کو ہی کہتے ہیں اسی لیے آج آپ کو موٹاپاکم کرنے کی ایک نہایت آزمودہ نسخہ کے بارے میں بتائیں گے ۔ صبح ناشتے میں یہ والی روٹی کھالیں۔ بڑھا ہوا وزن ایسے کم ہوگا جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔ شوگر، بلڈپریشرا ورکولیسٹرول جیسے امراض بھی رفو چکر ہوجائیں گے۔ اس نسخہ کو بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سےپہلے آپ ایک صاف پلیٹ یا باؤل لے لیں۔

اس میں ایک پیالی آٹا کی ڈال دیں۔ آٹاآپ لال یا سفید لے سکتے ہیں۔ گھر میں جو بھی آٹا استعمال ہوتا ہے وہی آٹا لے لیں۔ ا ب آپ اس میں اتنی ہی مقدار میں بیسن ڈال دیں۔ بیسن خالص ہو۔ ملاوٹ والا نہ ہو۔ پھرآپ اس میں ایک دو چٹکی کے برابر سفید زیرہ کا پاؤڈر ڈال دیں۔ سفید زیرہ لے کر اس کو پیس کر پاؤڈر بنا لیں۔ پھر آپ اس آٹے کو گوند لیں۔ یعنی پانی ڈال کر جس طرح گوندا جاتا ہے ۔ ا س طرح سے گوند لیں۔ اگرآپ چاہیں تو اس میں ایک چٹکی نمک کی بھی ڈال سکتے ہیں۔ اگر آپ کو بلڈ پریشر کا مرض لاحق ہے ۔

تو پھر آپ نمک کو اسکپ کر دیں۔ آپ اس آٹے کو گوندھیں اس کا پیڑا بنائیں جس طرح سے روٹی پکائی جاتی ہے اس طرح اس کی ایک درمیانے سائز کی روٹی بنالیں۔ لیکن آپ نے زیادہ روٹیاں نہیں کھانی۔ دو کافی ہے یا ایک بھی کافی ہے۔ اس کے بعد توے کو چولہے پر رکھ دیں۔ درمیانی آنچ رکھیں۔ پھراس آٹے کی روٹی بنالیں۔ بیسن آپ کے خ ون میں سے بڑھی ہوئی شوگر کو کم کرے گا۔ یہ جسم میں بڑھے ہوئے کولیسٹرول کو گھٹائےگا یہ والی روٹی آپ جب کھائیں گے ۔ توآپ کے جسم میں خ ون کی گردش نارمل ہوگی۔

جس کی وجہ سے بلڈ پریشر بھی کنٹرول میں رہے گا۔ اس میں موجود زیرہ آپ کے ہاضمے کو بہتر بنائے گا۔ یہ جسم سے فاضل مادوں کا اخراج کرکے موٹاپا کم کرے گا۔ اورآٹا تو ہے ہی اچھی چیز ہے۔پیٹ بھرنے کےعلاوہ یہ اچھی صحت بنانے کے بھی کام آتا ہے۔ اس طرح یہ روٹی تیار کرلیں۔ جب یہ روٹی پک جائیں۔ یہ والی روٹی آپ صبح ناشتے میں کھائیں ۔ چاہیں تو رات کے سالن کے ساتھ کھالیں۔ یا پھر اس کو چائے کے ساتھ کھالیں۔ یا ویسے ہی کھا لیں۔ اس سے آپ کو توانائی بھی ملے گی۔ اور آپ موٹاپے سمیت بہت سی بیماریوں سے بھی محفوظ رہیں گے ۔ یہ روٹی آپ باقاعدگی سے کھائیں۔ آپ کو بہت ہی اچھا رزلٹ ملےگا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *