””صرف دو کام کرو؟ تمہاری ہر مشکل حل ہوجائےگی؟““

شکر ہے کہ م و ت سب کو آتی ہے۔ ورنہ امیر اس بات کا مذاق بنا لیتے کہ غریب تھا اس لیے مرگیا ۔

لوگ نصیحت سے نہیں ٹھوکر سے سبق لیتے ہیں۔ کیونکہ نصیحت اکثر اایک کان سے داخل ہوکر دوسرے کان سے باہر نکل جاتی ہے۔ مگر ٹھو کر سیدھی دل پر لگتی ہے اخلاق ایک دکان ہے۔ زبان اس کا تالا ہے۔ تالا کھلتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ دکان سونے کی ہے یا کوئلے کی۔ عمر کی اونچائیاں چڑھتا ہوا آدمی یہ بھول جاتا ہے ۔ اصل میں وہ اتررہا ہے۔ زینہ زینہ درگززمین میں۔

اپنے دل کو مضبوط بناؤ اور اللہ تعالیٰ پر مکمل یقین رکھو وہ تمہاری ہر مشکل آسان کر دےگا۔ نفرتیں پھیلانےوالے لوگ بہت کمزور ہوتے ہیں۔ جن میں محبتیں نبھانے کی سکت نہیں ہوتی۔ عقلمند اور بے وقوفوں میں کچھ نہ کچھ عیب ضرور ہوتا ہے۔ مگر عقلمند اپنے عیب کو خود دیکھتا ہے۔ اور بے وقوف کے عیب دنیا دیکھتی ہے ۔ایک شخص بن کر جیو بلکہ ایک شخصیت بن کر جیو کیونکہ شخص تو مرجاتا ہے۔ پرشخصیت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ انسان دونوں معاملات میں بے بس ہے ۔ دکھ سے بھاگ نہیں سکتا اور خوشی کو خرید نہیں سکتا۔ باز اور شکروں کی موجودگی کے باوجود چڑیا کے بچے پرورش پاتے رہتے ہیں۔ آندھیاں سب چراغ نہیں بجھائے سکتیں۔ شیر دھاڑتے رہتے ہیں۔ اور ہرن کے خوبصورت بچے کلیاں بھرتے رہتے ہیں۔
فرعون نے سب بچے ہ لاک کردیے، مگر اصل بچہ اس کے گھر میں پرورش پاتا رہا، یہ سب اس مالک کے کام ہیں اس کی مخلوق اپنے اپنے مقرر شدہ طرز عمل سے زندگی گزارتی رہتی ہے۔ زمانہ ترقی کرگیا ہے۔ مگر مکھی ، مچھر اور چوہے اب بھی پیدا ہوتے ہیں۔ جراثیم کش دوائیاں نئے جراثیم پیدا کرتی ہیں۔ مشرق ومغرب میں بڑی ترقی ہوئی ہے۔ انسان کل بھی دکھی تھا ۔آج بھی سکھی نہیں علاج تو خالق کے قرب میں ہے۔ لو گ سمجھتے ہی نہیں ۔ امیروں کی سخاوت اللہ تعالیٰ کی راہ میں رزق تقسیم کرنے میں ہے۔ اور غریب کی سخاوت رزق کی تقسیم کو تسلیم کرنے میں ہے۔

وہ غریب سخی ہے۔ جو دوسروں کے مال کو دیکھنا اور اس کے تمنا چھوڑ دے۔ رحم اس فضل کوکہتے ہیں۔ جو انسان پر اس کی خامیوں کے باوجود کیا جائے۔ خیال بن کر زندہ انسانوں کے ذہن میں رہ جانا بھی زندہ رہنے کا ایک طریقہ ہے۔ اگر دعا قبول کرنا چاہتے ہوتو یہ تین کام کرو۔ رو اور گڑگڑاؤ، تنہائی میں دعا مانگو، شکرادا کرو۔ نیند زندگی کا ایک ایسا آئینہ ہے ۔ جس میں م و ت کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ بڑے بڑوں کی بڑی بڑی خدمت کرنے کے بجائے چھوٹے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ضرورت پوری کردی جائے

Sharing is caring!

Comments are closed.