”ط ل ا ق یافتہ عورت دودھ پلانے کے پیسے اور بچہ سنبھالنے کے الگ الگ پیسے لے سکتی ہے؟“

عورت کاتعلق ایسے گھرانےسے ہوکہ جہاں عورتیں گھرکاکام خودکرتی ہوں اورکھاناوغیرہ خودپکاتی ہوں

توایسی عورت پراپنے شوہرکے لیے کھاناپکانااورگھر کے کام انجام دینادیانۃً لازم ہے،(البتہ اگرعورت بیمارہوتواس پریہ چیزیں لازم نہ ہوں گی)حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی اورحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہماکے درمیان کام تقسیم فرمایاکہ باہرکے کام حضرت علی رضی اللہ عنہ انجام دیں اورگھر کے اندرونی کام حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاانجام دیں،حالانکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاتمام عورتوں کی سردارہیں،لہذا عورت پردیانۃً لازم ہے کہ کھاناپکائے اورگھرکے کام انجام دے،گھرکے باہرکے کاموں کی ذمہ داری عورت پرنہیں ہے۔

یوی اپنے شوہر سے بچوں کو دودھ پلانے پر اجرت کا مطالبہ نہیں کرسکتی البتہ جب اس کےنکاح یا عدت میں نہ ہو تو وپھر اسے اجرت کے مطالبہ کاحق ہے اول یہ کہ دودھ پلانادیانۃً ماں کے ذمہ واجب ہے،بلاعذرکسی ضدیاناراضی کے سبب دودھ نہ پلائے توگنہگارہوگی ،اوردودھ پلانے پروہ شوہرسے کوئی اجرت ومعاوضہ نہیں لے سکتی، جب تک وہ اس کے اپنے نکاح میں ہے ،

کیونکہ وہ اس کااپنافرض ہےالبتہ ماں اگربچہ کودودھ پلانے سے کسی ضرورت کے سبب انکارکرےتوباپ کواسے مجبورکرناجائزنہیں،اوراگربچہ کسی دوسری عورت یاجانورکادودھ نہیں لیتاتوماں کو مجبورکیاجائے گاچھٹامسئلہ یہ معلوم ہواکہ اگربچے کی ماں دددھ پلانے کی اجرت مانگتی ہے توجب تک اس کے نکاح یاعدت کے اندرہے،اجرت کے مطالبے کاحق نہیں،یہاں اس کانان نفقہ جوباپ کے ذمہ ہے۔

وہی کافی ہے،مزیداجرت کامطالبہ باپ کوضررپہنچاناہے چہ ہو یا بچی، دونوں کی مدت رضاعت ایک ہی ہے، یعنی دو سال تک، مذکر اور موٴنث ہونے کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے، آپ کی بچی سترہ مہینے کی ہے، تو ابھی سات ماہ اور اپنی ماں کا دودھ پی سکتی ہے۔ زاہد کے لیے دودھ پلانے والی عورت کی کسی بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے ؛ اس لیے کہ مرضعہ کے بیٹے اور بیٹیاں زاہد کے رضاعی بھائی بہن بن گئے ، ہاں زاہد کے دوسرے بہن بھائی کا نکاح مرضعہ کی اولاد سے ہوسکتا ہے ، زاہد کے دودھ پینے کی وجہ سے دونوں طرف کے سب بھائی بہن رضاعی نہیں بنیں گے ۔مدت رضاعت میں ایک گھونٹ بھی دودھ حلق میں جانے سے حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے ، پانچ مرتبہ یا شکم سیر ہوکر پینا ضروری نہیں ہے ۔

چاند کے حساب سے دو سال سے کچھ زیادہ عمر میں دودھ پینے سے راجح قول کے مطابق حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوجاتی ہے ۔رضاعت کے ثبوت کے لیے دو عادل مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہےاس سوال کا جواب یہ ہے کہ سنبھالنے کی اجرت لےسکتی ہے مگر یہ عدت گزرنے کے بعد جائز ہے ایامِ عدت کی اجرت جائز نہیں البتہ بچہ کا اپنا مال ہو تو اس سے اجرت طلب کر نا جائز ہے ان سب امور میں کوئی فرق نہیں ہے جب کہ کوئی دوسری عورت بنا اجرت راضی نہ ہو اگر بلا اجرت کوئی دوسری عورت راضی ہے تو ماں اجرت نہیں لے سکتی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.